
راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ٹی چوک، جسے اب اقبال ایونیو فلائی اوور بھی کہا جاتا ہے، تعمیر کے وقت شہریوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری سمجھا گیا۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والے اس فلائی اوور سے توقع کی جا رہی تھی کہ خطے میں ٹریفک کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے اور آمدورفت میں آسانی پیدا ہوگی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ایک بڑا اور واضح نقص سامنے آ چکا ہے جس کا خمیازہ بالخصوص روات بازار کے مکین اور مسافر بھگت رہے ہیں فلائی اوور کی تعمیر کے بعد جب اسلام آباد کی سمت سے آنے والی ٹریفک راولپنڈی کی طرف جانا چاہتی ہے تو اس کے لیے کوئی باقاعدہ انڈر پاس فراہم نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً گاڑیوں کو ایک پروٹیکٹڈ یو ٹرن کے ذریعے موڑا جاتا ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ راولپنڈی سے لاہور کی جانب جانے والی گاڑیاں بھی شدید دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ پی ایس او پمپ کے قریب یہ صورتحال اکثر اوقات گھمبیر شکل اختیار کر لیتی ہے اور گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔اسی طرح لاہور سے آنے والی ٹریفک بھی اسی یو ٹرن کے باعث رکاوٹ کا شکار رہتی ہے۔
صبح اور شام کے اوقات میں جب دفاتر اور تعلیمی اداروں کی چھٹی کا وقت ہوتا ہے تو روات بازار میں ٹریفک کا دباؤ انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ دونوں اطراف چھ رویہ سڑک جب بازار کے اندر داخل ہوتی ہے تو اچانک چار رویہ ہو جاتی ہے، جس سے ایک باٹل نیک پیدا ہوتا ہے اور گاڑیاں بری طرح پھنس جاتی ہیں۔ مسافروں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ ایمبولینس اور ایمرجنسی گاڑیاں بھی اسی بھیڑ میں رُک جاتی ہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ٹی چوک فلائی اوور کی منصوبہ بندی کے وقت اسلام آباد سے آنے والی ٹریفک کے لیے راولپنڈی کی جانب براہِ راست انڈر پاس تعمیر کر دیا جاتا تو یہ مسائل جنم نہ لیتے۔
انفراسٹرکچر منصوبوں میں پیشگی ٹریفک اسٹڈی اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہوتا ہے، مگر بظاہر یہاں یہ پہلو نظرانداز ہوا۔مزید برآں، راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والی ٹریفک جب پروٹیکٹڈ یو ٹرن تک پہنچتی ہے تو وہاں بھی روانی متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً دونوں اطراف کی گاڑیاں ایک دوسرے پر دباؤ ڈالتی ہیں اور روات بازار عملی طور پر ایک چوک پوائنٹ بن جاتا ہے۔ بس اسٹاپس کے قریب سڑک کی چوڑائی کم ہونے کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ کے رکنے سے ٹریفک مکمل جام ہو جاتی ہے، جس سے شہریوں کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مسئلے کا حل وقتی انتظامی اقدامات کے بجائے مستقل بنیادوں پر انجینئرنگ اصلاحات میں مضمر ہے۔ روات بازار کے حصے کو چار سے اپگریڈ کر کے چھ رویہ کیا جائے اور ٹریفک کے بہاؤ کو تقسیم کرنے کے لیے متبادل راستے یا انڈر پاس تعمیر کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بس اسٹاپس کو سروس روڈ پر منتقل کر کے مین کیرج وے کو کھلا رکھا جائے تو دباؤ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی صرف افتتاحی تختی لگانے سے نہیں بلکہ ان کی عملی افادیت سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر ایک منصوبہ مسئلہ حل کرنے کے بجائے نئی پیچیدگیاں پیدا کرے تو اس کا ازسرِ نو جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مسافروں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے ٹریفک انجینئرنگ کے ماہرین کی مشاورت سے اس سنگین مسئلے کا دیرپا حل تلاش کریں۔ٹی چوک فلائی اوور اپنی جگہ ایک اہم قدم تھا، مگر اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے ساتھ جڑے نقائص کو دور کر کے اسے واقعی عوام دوست منصوبہ بنایا جائے۔ بصورت دیگر روات بازار کی سڑکیں شہریوں کے لیے سہولت کے بجائے اذیت کی علامت بنی رہیں گی۔