تحریر حافظ ظفر رشید
وطن عزیز کی سرزمین پر دینی مدارس کاقیام کسی بھی عظیم نعمت سے کم نہیں اور رمضان المبارک سے قبل ہرسال دینی مدارس سے لاکھوں کی تعداد میں حفاظ قرآء‘ علماء کرام اور مفتیان عظام تیارہوکرباہرنکلتے ہیں اور یہی لوگ دنیاپردین کو ترجیح دیے کردین اسلام کی سربلندی دعوت و تبلیغ درس و تدریس امام وخطیب رہبروراہنما محدث مفسر محقق مدبر مصنف کیلئے اپنے آپ کوپیش کرتے ہیں۔ انتہائی معمولی وظیفہ پر شب و روز قال اللہ وقال رسول اللہﷺ کی صدائیں بلند کرتے ہمیں نظرآتے ہیں۔ زندگی کے دیگر شعبہ کی طرح دین کے مختلف شعبہ جات میں اپنی تدریسی خدمات سر انجام دینے کیلئے مدرس کی مسند پر براجمان ہوتے ہیں۔
اصلاح کیلئے منبر پر خطبات دیتے ہیں آذان وامامت میں بھی آگے نظرآتے ہیں‘ باطل کا راستہ روکنے میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں حتی کہ ہر دینی محاذپر سر فہرست یہ لوگ نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کی راہنمائی کیلئے علم وعمل کے لئے قرآن وسنت کی تعلیمات بہت ضروری ہیں اور مسلمان کی زندگی قرآن وسنت کی تعلیمات کے بغیر ادھوری ہے۔اسلامی معاشرے کی بقاء اور اسکے قیام کاتصور اسی وقت ممکن ہے جب اسلامی تعلیمات کا علم ہوگا اور اس پر عمل ہوگا دینی مدارس کے قیام کا مقصد اسلامی تعلیمات کے ماہرین پیداکرنا‘ قرآن وسنت کی تعلیمات پر عبور حاصل کرنا‘بھٹکے ہوئے لوگوں کوجہالت کے اندھیرے سے نکال کر کامیابی کی راہ پر چلانا،اسلامی تہذیب وثقافت کاتحفظ کرنا‘ کفروباطل کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہونا مسلم معاشرے میں اتفاق و اتحاد کی فضاء قائم کرنااور ایسے افراد پیداکرناہے جو اسلام مخالف قوتوں کو جواب دے کر اسلام کا دفاع کرسکیں۔

ان مدارس کی نسبت نبی کریم رؤف الرحیمﷺ کی اس درس گاہ کی طرف ہے جسے دار ارقم کہتے ہیں جسے تاریخ میں مدرسہ اصحاب صفہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جہاں سے پڑھنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فیض حاصل کرکہ پوری دنیا میں انسانیت کو اندھیرے سے نکال کر ابدی فلاح و کامیابی کی طرف متوجہ کیا اور راہنمائی کی دینی مدارس اور اس سے وابستہ لوگوں کا معاشرے میں کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انکی کوشش قابل تعریف اور لائق تحسین ہے دینی مدارس علم وعمل تعلیم و تربیت قرآن وسنت کے مراکز ہیں اسلام کے قلعے ہیں یہاں عقائد عبادات اخلاق وکردار اسلامی تعلیمات کے تحفظ کیلئے کوشش ہوتی ہے۔سیرت وصورت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش بھی ہوتی ہے ان مدارس کے لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ایک ایسا معاشرے تشکیل دیاجائے جس میں لوگوں کو دینی شعور سے آگاہی دی جائے محدود وسائل میں لامحدود کوششیں ایک ناممکن کو ممکن بنانے کے مترداف ہے۔ مدارس صرف تعلیم و تربیت تک محدود نہیں بلکہ یہاں سیاسی و سماجی شخصیات کوتیارکرکہ معاشرے میں امن وامان سلامتی و استحکام قائم رکھنے کا عمل بھی دوہرایا جاتاہے۔
یہاں تعلیم و تربیت کے علاؤہ مدارس میں پڑھنے پڑھانے والے طلباء کرام اور اساتذہ کرام کیلئے قیام طعام علاج معالجہ بجلی وگیس کے بل سمیت دیگر ضروریات زندگی کی زمہ داری بھی ان مدارس کے سپرد ہوتی ہے۔ یہاں زیادہ تر غریب یتیم مسکین طلباء وطالبات پڑھتے ہیں جنکی کفالت کی ذمہ داری مدارس بخوبی سر انجام دے رہے ہیں اس وقت بھی دنیا میں جہاں بھی آذان و اقامت امامت وخطابت حق سچ کی آواز گونج رہی ہے اس میں بنیادی کردار ان مدارس کا ہی ہے یہ مدارس ہی ہیں جو تزکیہ نفس کتاب وحکمت علم وعمل ادب واحترام تہذیب وثقافت میں کردار اداء کررہے ہیں۔
دینی مدارس کا ایک نصاب ہوتا ہے جس میں نورانی قاعدہ،ناظرہ حفظ قرآن مجید ترجمہ وتفسیر احادیث مبارکہ قواعد و ضوابط اصول فقہ منطق سمیت عربی ودیگر زبانوں پر عبور حاصل کرنا شامل ہوتا ہے ان مدارس کو اندرونی بیرونی اپنے اور پرائے لوگوں کی طرف سے بے پناہ مشکلات پابندیاں مخالفت مصائب اور تنقید کاسامنا کرناپڑتاہے لیکن باجود اسکے یہ اپنی ذمہ داریاں بخوبی انداز میں نبھا رہے ہیں روز اول سے لے کر برصغیر پر انگریز کے قابض ہونے تک مدارس کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا جب اس سے ان درویش صفت لوگوں کے حوصلہ کوناتوڑا جاسکاانگریز نے جب برصغیر پر قبضہ کیا تو اس نے اپنی تمام کوششیں صرف کیں ہر حربہ استعمال کیا روکاوٹیں کھڑی کیں کہ مدارس اور اہل مدارس کو ختم کردیا جائے سرعام میدان میں توپ کے رہانے ہر باندھ کر علماء کرام کو آگ کے شعلے میں لپیٹ دیاگیا میدان میں گولیوں سے بھون دیا گیا آگرہ سے لے کر دہلی کی شاہراہ پر درختوں پر لٹکا دیاگیا
کالا پانی کی جیل میں ظالمانہ سزائیں سنائیں گئیں لیکن ان مدارس کے لوگوں کو نادبایاجا سکاباوجود اسکے آج بھی مدارس کا وجود قائم ہے وہاں سے ہر سال پڑھنے والے علماء کرام حفاظ قرآء کرام پڑھ کر معاشرے میں اپنا کردار اداء کررہے ہیں جبکہ اس خطے سے اس انگریز کا نام ونشان مٹ چکا ہے جس نے کالا پانی جیل میں علماء کرام کو سزائیں دیں آج وہاں سیر وتفریح کے علاؤہ کچھ بھی باقی نہیں جبکہ مدارس کا قیام اب بھی بڑھتا جارہاہے ان مدارس کے متعلق شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ نے کہا تھا
ان مکتبوں کو اسی حال میں رہنے دو
مسلمانوں کے بچوں کو انہی مدارس میں پڑھنے دو
اگر یہ ملا اور درویش نا رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا جو کچھ ہو گا وہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں اس لئے یہ ان دینی مدارس کا مسلمان کی زندگی میں تعلیم و تربیت میں قرآن وسنت کی تعلیمات عام کرنے میں عقائد و عبادات کی درستگی کرنے میں معاشرتی و سماجی شخصیات تیار کرنے میں اسلامی تہذیب و ثقافت کے تحفظ میں دین اسلام کی سربلندی میں اسلامی تعلیمات کی نشرو اشاعت میں اسلامی قوانین مرتب کرنے میں معاشرے کی تشکیل میں درس وتدریس میں منبر ومحراب میں امن وامان کی فضاء قائم کرنے میں سکون واطمینان برقرار رکھنے میں سلامتی و استحکام کے لئے کوشش کرنے میں حق وباطل کی پہچان کرانے میں بہت بڑا کردار ہے جسے ہم چاہ کر بھی فراموش نہیں کر سکتے۔