راولپنڈی کے متعدد مواضعات بلاک ،رجسٹریوں کا عمل معطل

گوجر خان (پنڈی پوسٹ نیوز)کمپیوٹرائزڈ اراضی ریکارڈ سسٹم عوام کے لیے دردِ سر بن گیا پنجاب میں چند برس قبل متعارف کرایا گیا کمپیوٹرائزڈ اراضی ریکارڈ سسٹم عوام کو سہولت دینے کے بجائے مشکلات میں اضافہ کا باعث بن گیا۔ شہباز شریف کے دور میں انگریز دور کے پرانے نظام کو ختم کرکے جدید کمپیوٹرائزڈ سسٹم لایا گیا تھا، جس کا مقصد زمینوں کے حوالے سے بروقت اور شفاف خدمات فراہم کرنا تھا۔

ذرائع کے مطابق ابتدا ہی سے یہ سسٹم غیر تربیت یافتہ عملے اور بے شمار غلطیوں کے باعث عوام کے لیے فائدے کی بجائے پریشانی کا سبب بنا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ تحصیل گوجرخان سمیت مختلف علاقوں میں ریکارڈ بلاک ہونے، پٹواریوں کی آئی ڈیز بند ہونے اور فرد نہ ملنے کے باعث رجسٹریوں کا عمل رک چکا ہے۔سائلین کے مطابق وہ کمپیوٹر سینٹرز اور پٹواریوں کے درمیان ’’فٹبال‘‘ بنے ہوئے ہیں، جبکہ زمینوں کے سودے اور انتقالات تاخیر کا شکار ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب یا تو اس سسٹم کو اپ گریڈ کرے یا پھر پرانا پٹواری نظام بحال کرے تاکہ عوام کے زمینوں سے متعلقہ مسائل حل ہوسکیں۔ادھر عوامی حلقوں نے اعلی احکام اور دیگر متعلقہ اتھارٹی سے مطالبہ کیاہے کہ کمپیوٹرز سنٹر میں تعنیات ہونے والے ملازمین کے اثاثوں کی بھی مکمل چھان بین کی جاے کہ پیدل آنے والے چند مہینوں میں کاروں بنگلوں کے مالک کیسے بن گئے چند ہفتے قبل محکمہ انٹی کرپشن نے بھی دواہلکار گرفتار کیے تھے