حوصلہ نہ ہاریں

زندگی کا سفر کبھی ہموار نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جس میں خوشی اور غم، کامیابی اور ناکامی، امید اور مایوسی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ہر انسان اپنی زندگی میں ایسے مراحل سے گزرتا ہے جب حالات اس کے اختیار سے باہر محسوس ہوتے ہیں، جب خواب بکھرتے نظر آتے ہیں اور جب دل میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ شاید اب آگے بڑھنا ممکن نہیں رہا۔ انہی لمحات میں انسان کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں اگر کوئی چیز انسان کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے تو وہ امید ہے۔ امید وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتا ہے، بشرطیکہ انسان اسے بجھنے نہ دے۔

مایوسی انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ یہ خاموشی سے دل میں جگہ بناتی ہے اور آہستہ آہستہ انسان کی سوچ، اعتماد اور صلاحیتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ جب انسان مایوس ہو جاتا ہے تو اسے ہر راستہ بند نظر آنے لگتا ہے، ہر دروازہ مقفل محسوس ہوتا ہے اور ہر کوشش بے معنی دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کامیابی انسان سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر ہوتی ہے، مگر مایوسی اسے وہ قدم اٹھانے نہیں دیتی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ہار دراصل حالات سے نہیں بلکہ انسان کے حوصلے کے ٹوٹنے سے ہوتی ہے۔

زندگی میں مشکلات آنا فطری عمل ہے۔ کوئی بھی انسان مشکلات سے مبرا نہیں۔ امیر ہو یا غریب، تعلیم یافتہ ہو یا کم پڑھے لکھا، ہر شخص کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا رہتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ان مشکلات کو سیکھنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ انہی مشکلات کے بوجھ تلے دب کر ہمت ہار جاتے ہیں۔ جو لوگ حوصلہ نہیں ہارتے، وہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتے چلے جاتے ہیں اور آخرکار کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔

تاریخ کے اوراق اٹھا کر دیکھیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا میں جتنے بھی عظیم لوگ گزرے ہیں، انہوں نے کبھی آسان زندگی نہیں گزاری۔ ان کی زندگی مشکلات، ناکامیوں اور قربانیوں سے بھری ہوئی تھی۔ اگر وہ ابتدائی ناکامیوں پر ہمت ہار جاتے تو آج دنیا انہیں ایک کامیاب انسان کے طور پر یاد نہ کر رہی ہوتی۔ دراصل کامیابی ہمیشہ ان لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو حالات کے آگے جھکنے کے بجائے ان کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں خاص طور پر نوجوان طبقہ تیزی سے مایوسی کا شکار ہو رہا ہے۔ تعلیمی نظام کا دباؤ، روزگار کے محدود مواقع، مہنگائی، معاشرتی توقعات اور مقابلے کی فضا نوجوانوں کو ذہنی طور پر کمزور کر دیتی ہے۔ بہت سے نوجوان معمولی ناکامی کو اپنی زندگی کا خاتمہ سمجھ لیتے ہیں۔ کوئی امتحان میں ناکام ہو جائے تو خود کو ناکارہ تصور کرنے لگتا ہے، کوئی نوکری نہ ملنے پر اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتا ہے۔ حالانکہ یہ سب زندگی کے عارضی مراحل ہوتے ہیں، مستقل حقیقت نہیں۔

یہ بات سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ ناکامی دراصل کامیابی کا پہلا زینہ ہوتی ہے۔ جو انسان ناکامی سے نہیں گزرتا، وہ کامیابی کی اصل قدر بھی نہیں جان پاتا۔ ناکامی انسان کو سکھاتی ہے، نکھارتی ہے اور بہتر بناتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ انسان اس سے سیکھنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ اگر ہر ناکامی کے بعد انسان ہمت ہار دے تو ترقی کا سفر وہیں رک جاتا ہے۔

امید انسان کو یہ یقین دلاتی ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، وہ ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ وقت بدلتا ہے، حالات بدلتے ہیں اور انسان کی محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔ وہ لوگ جو مشکل وقت میں بھی محنت، صبر اور مستقل مزاجی کا دامن نہیں چھوڑتے، وہی آخرکار کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ امید دراصل انسان کو عمل پر آمادہ کرتی ہے، یہ اسے حرکت دیتی ہے اور اسے یہ سکھاتی ہے کہ بیٹھ کر رونے کے بجائے اٹھ کر کوشش کرنا ہی زندگی ہے۔

مذہبی نقطۂ نظر سے بھی امید کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اسلام میں مایوسی کو ناپسند کیا گیا ہے اور اللہ کی رحمت سے ناامید ہونے کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ قرآن ہمیں بار بار یہ یقین دلاتا ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یہ پیغام انسان کے دل میں سکون پیدا کرتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں، بلکہ ایک طاقتور ذات اس کے ساتھ ہے۔ جب انسان اس یقین کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرتا ہے تو اس کے حوصلے کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

صبر اور امید ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ صبر کے بغیر امید قائم نہیں رہ سکتی اور امید کے بغیر صبر بے معنی ہو جاتا ہے۔ جو انسان صبر کے ساتھ حالات کا سامنا کرتا ہے، وہی اصل میں امید کو زندہ رکھتا ہے۔ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان مستقل کوشش کرتا رہے اور نتائج اللہ پر چھوڑ دے۔

معاشرتی سطح پر بھی ہمیں ایک دوسرے میں امید پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اکثر ہم لاشعوری طور پر ایسے جملے بول دیتے ہیں جو کسی کی ہمت توڑ دیتے ہیں۔ کسی ناکام شخص کو طعنے دینا، اس کی غلطیوں کو بار بار دہرانا یا اس کے مستقبل کو تاریک قرار دینا، یہ سب مایوسی کو بڑھاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر ہم ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھائیں، مثبت بات کریں اور ساتھ کھڑے ہوں تو نہ صرف ایک فرد بلکہ پورا معاشرہ مضبوط ہو سکتا ہے۔

میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے بہت اہم ہے۔ آج کا انسان خبروں، تصاویر اور تبصروں سے بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ منفی خبریں اور مایوس کن تجزیے انسان کی سوچ کو مزید تاریک کر دیتے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ امید، جدوجہد اور کامیابی کی کہانیاں بھی سامنے لائی جائیں تاکہ لوگوں کو یہ احساس ہو کہ مشکلات کے باوجود زندگی آگے بڑھتی ہے۔

زندگی میں ایسے لمحات ضرور آتے ہیں جب انسان خود کو تنہا محسوس کرتا ہے، جب اسے لگتا ہے کہ کوئی اس کی بات سمجھنے والا نہیں۔ ایسے وقت میں امید ہی وہ سہارا ہوتی ہے جو انسان کو اندر سے مضبوط رکھتی ہے۔ یہ امید ہی ہے جو انسان کو اگلے دن دوبارہ اٹھنے، دوبارہ کوشش کرنے اور دوبارہ خواب دیکھنے کی ہمت دیتی ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ حوصلہ ہار جانا مسئلے کا حل نہیں۔ مسئلے زندگی کا حصہ ہیں، مگر ان کے سامنے جھک جانا زندگی نہیں۔ جو انسان امید کے ساتھ جیتا ہے، وہی اصل میں کامیاب ہوتا ہے، چاہے وقتی طور پر حالات اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر آج ناکامی ہے تو کل کامیابی بھی ہو سکتی ہے، اگر آج اندھیرا ہے تو کل روشنی بھی آ سکتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں امید کا چراغ روشن رکھے اور زندگی کی ہر آزمائش میں یہ کہتا رہے: میں ہار نہیں مانوں گا۔