ہم دیکھ رہے ہیں ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ انسانوں نے انسانیت سے کس طرح آنکھیں پھیری لی ہیں ہمارا احساس اور ہمارے ضمیر کس طرح مردہ ہوچکے ہیں۔محبت ہماری بستیوں سے کس طرح نایاب ہوچکی ہے ہر طرف نفرت کا دور دورہ ہے نفرت کے جو مناظر ہم موجودہ سماج میں دیکھ رہے ہیں انہوں نے انسانیت کی نگاہیں نیچی کر دی ہیں۔لوگ بدی کے نئے نئے گرُ سیکھ رہے ہیں۔

جہاں نیکی میں ڈر اور بدی میں اطمینان پایا جانے لگے وہاں بے حسی راج کرتی ہے ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں اس معاشرے کے انسان کو سفلی خواہشوں اور جذبات نے وحشیوں کی صف میں کھڑا کررکھا ہے وحشت اور کینہ پروری نے انسان کو ہمیشہ بلندی سے پستی کی جانب دھکیلا ہے رقابت اور انتقام کو کوئی بھی روپ دیا جائے اس کے حتمی نتائج تباہی کی صورت ہی نکلتے ہیں دوڑتی بھاگتی زندگی میں ہر روز ہزاروں واقعات ظہور پذیر ہوتے ہیں مگر کوئی ایک واقعہ کوئی ایک سانحہ احساس رکھنے والوں کو بری طرح مجروع کرتا ہے۔
گزشتہ دنوں ایک ایسا ہی دلخراش اور افسردہ کر دینے والا ایک واقعہ گوجرخان کے نواحی علاقے جاتلی تھانہ کی حدود کینٹ روشن میں پیش آیا جس کی مختصر معلومات ہی سامنے آسکیں تاہم اس کی جو تھوڑی سے تفصیل میڈیا کے ذریعے سامنے آئی اس نے انسان کی بے حسی اور سنگدلی کی وہ داستان بیان کی جس کی جس قدر مذمت کی جائے وہ کم ہے واقعہ ایک نومولود بچے کے قتل کا ہے جسے میڈیا رپورٹس کے مطابق بچے کی سگی تائی نے قتل کیا اور پھر کنویں مین پھینک دیا۔یا یوں ہوسکتا ہے کہ زندہ کو ہی کنویں میں پھینک دیا گیا ہو بتایا جاتا ہے کہ تائی نے نومولود کا قتل حسد کے باعث کیا کہ تائی خود بے اولاد تھی اور اسے دیورانی کے ہاں بچے کی پیدائش پر حسد اور احساس کمتری نے اس گھناونے اقدام پر اکسایا حسد کو اسی لیے برا کہا گیا ہے کہ حاسد انسان حسد میں وہ کچھ کرگذرتا ہے جو شرعاً‘قانوناً‘اخلاقاً ناقابل قبول ہوتا ہے آخر تائی کو ایک معصوم اور بے ضرر جان سے کیا دشمنی تھی۔
کہتے ہیں کہ رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں اگر احساس ختم ہوجائے تو رشتے جسم میں موجود اس خون کے لوتھڑے کی مانند ہوجاتے ہیں جن کا جسم مین رہنا نقصان دہ اور باعث تکلیف ہوتا ہے۔گھر کے چراغ سے گھر کو آگ لگانے والے خود اپنا دامن بھی اس آگ سے نہیں بچا سکتے حسد اور احساس محرومی نے ملزمہ کو جانوروں سے بدتر بنایا کہ اس نے ایک بے گناہ معصوم کی جان لے لی وجہ کچھ بھی رہی ہو لیکن ملزمہ کا یہ فعل ناقابل معافی جرم ہے کہتے عورت کا دل مرد کی نسبت زیادہ نرم اور رحم بھرا ہوتا ہے لیکن یہاں تو سنگدلی کی انتہا ہے کہ ایک ایسے بچے کو قتل کیا گیا جس نے ابھی تک شاید پوری طرح آنکھ بھی نہیں کھولی ہو گی۔
کسی کے ساتھ زیادتی کرنے سے پہلے اگر ہمیں مکافات عمل کا خیال آجائے تو شاید کوئی بھی اس پھندے میں ہرگز،نہ پھنسے۔مگر پھر درس عبرت کا تسلسل کیسے ممکن ہو۔پولیس نے کنویں سے نومولود کی لاش ملنے کے کچھ ہی وقت بعد ملزمہ کو گرفتار کرلیا۔جو قابل ستائش ہے پولیس کو غیر جانبدارانہ تحقیقات سے ٹھوس چالان پیش کرتے ہوئے ملزمہ کو ایسی عبرتناک سزا کا بندوبست کرنا چاہیے جو ایسے بھیڑیا صفت انسانوں کے لیے باعث عبرت ہوسکے۔
طالب حسین آرائیں