
کرکٹ کو کبھی “جینٹلمینز گیم” کہا جاتا تھا، مگر بدقسمتی سے یہ کھیل آہستہ آہستہ طاقت کی سیاست، معاشی دباؤ اور دوہرے معیار کی نذر ہوتا جا رہا ہے۔ خصوصاً انڈیا نے سیاست کو کھیل میں اس حد تک داخل کر دیا ہے کہ کرکٹ کا حسن، اس کی روح اور اس کی غیرجانبداری سب گہنا کر رہ گئی ہے۔ حالیہ واقعات اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں۔
سب سے پہلے بنگلہ دیش کا معاملہ سامنے آیا، جو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ سے عملی طور پر باہر ہوتا دکھائی دیا۔ بظاہر وجہ کھیل سے متعلق بتائی گئی، مگر پردے کے پیچھے سیاسی دباؤ، لابنگ اور طاقت کے استعمال کی کہانیاں زبانِ زدِ عام رہیں۔ اسی پس منظر میں پاکستان کا حالیہ فیصلہ ایک معنی خیز ردِعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ “جیسے کو تیسا” کے مصداق پاکستان نے انڈیا کے ساتھ ورلڈ کپ میچ نہ کھیلنے کا عندیہ دے کر آئی سی سی کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر کھیل کو سیاست کا یرغمال بنایا جائے گا تو ردِعمل بھی اسی نوعیت کا ہوگا۔ یہ فیصلہ محض ضد یا جذباتی ردِعمل نہیں، بلکہ اس نظام کے خلاف ایک سوالیہ نشان ہے جو خود کو غیرجانبدار کہلاتا ہے مگر عملاً چند طاقتور ممالک کے مفادات کا محافظ بن چکا ہے۔اس ساری صورتحال میں آئی سی سی کے کردار پر سوالیہ نشان ہے ایک عالمی ادارہ ہونے کے ناطے اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھتا، تمام ممالک کے ساتھ یکساں سلوک کرتا اور قوانین کو سب کے لیے برابر نافذ کرتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آئی سی سی اکثر انڈیا کے معاشی اثر و رسوخ کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے۔ براڈکاسٹنگ رائٹس، اسپانسرشپ اور مارکیٹ ویلیو نے انصاف اور اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے جس کا نقصان شائقین کرکٹ اٹھا رہے ہیں پاک-بھارت میچ صرف دو ٹیموں کا مقابلہ نہیں ہوتا، بلکہ کروڑوں مداحوں کی جذباتی وابستگی کا مرکز ہوتا ہے۔ جب ایسے میچ سیاست کی بھینٹ چڑھتے ہیں تو نقصان صرف ایک ٹیم یا ایک بورڈ کا نہیں، بلکہ پورے کھیل کا ہوتا ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کے خواب متاثر ہوتے ہیں، شائقین مایوس ہوتے ہیں اور کرکٹ آہستہ آہستہ اپنی کشش کھونے لگتی ہے۔پاکستان کے فیصلے کو اس تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کہ یہ ایک احتجاج ہے—ایک یاد دہانی کہ کھیل کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر انڈیا کھیل میں سیاست کی روایت کو پروان چڑھاتا ہے تو پھر دوسرے ممالک کو بھی اپنی خودداری اور اصولوں کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ اصل امتحان آئی سی سی کا ہے کہ آیا وہ واقعی عالمی کرکٹ کی نگران ہے یا محض ایک طاقتور بورڈ کی توسیع۔
آخر میں سوال یہ ہے کہ کیا کرکٹ دوبارہ اپنے اصل حسن کی طرف لوٹ سکے گی؟ اس کا جواب تب ہی مثبت ہو سکتا ہے جب سیاست کو میدان سے باہر رکھا جائے، اصولوں کو مفادات پر ترجیح دی جائے اور کھیل کو واقعی کھیل رہنے دیا جائے۔

