(پنڈی پوسٹ نیوز)تمل ناڈو میں وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے (C. Joseph Vijay) کی قیادت میں قائم نو منتخب تملگا ویٹری کژگم (TVK) حکومت نے مسلم خواتین کو اعلیٰ تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک انقلابی اور تاریخی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔
حکومت نے سرکاری کوٹے کے تحت کالجوں میں داخلہ لینے والی تمام اہل مسلم طالبات کی انڈرگریجویٹ (UG) ٹیوشن فیس مکمل طور پر معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ریاستی اسمبلی میں اقلیتی بہبود کے وزیر اے ایم شاہجہاں نے اس اسکیم کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کا مقصد مسلم خواتین میں اعلیٰ تعلیم کے رجحان کو بڑھانا اور انہیں مالی طور پر خودمختار بنانا ہے۔
اس سرکاری فیصلے کے تحت آرٹس، سائنس، انجینئرنگ، میڈیکل، لا (قانون) اور زراعت (Agriculture) جیسے تمام بڑے شعبوں کی تعلیم حاصل کرنے والی مسلم طالبات کی فیس اب تمل ناڈو حکومت ادا کرے گی۔ یہ اسکیم ریاست کے تمام سرکاری، امداد یافتہ (Government-aided) اور سیلف فنانسنگ کالجوں پر فوری طور پر لاگو ہوگی۔ حکومت نے اس اسکیم کے ابتدائی مرحلے کے لیے 20 کروڑ روپے کا بجٹ بھی جاری کر دیا ہے۔
فیس معافی کے علاوہ وزیر اعلیٰ وجے کی حکومت نے اقلیتی برادری کے لیے مزید کئی اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے، مسلم طالبات کے لیے وقف بورڈ اسکالرشپ کو اب آٹھویں سے بڑھا کر دسویں جماعت تک کر دیا گیا ہے، جس سے 41,000 سے زائد طالبات کو سالانہ 2 ہزار روپے کا وظیفہ ملے گا۔
چنئی میں خصوصی طور پر اقلیتی خواتین کے لیے ایک جدید ‘آرٹس اینڈ سائنس کالج’ قائم کیا جائے گا، مسلم وقف اور عیسائی مذہبی اداروں کی زمینوں پر تجارتی اثاثے تیار کرنے کے لیے 100 کروڑ روپے کا ریوالونگ فنڈ (Interest-free loan) قائم کیا گیا ہے تاکہ اقلیتی اداروں کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔
تمل ناڈو اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے تحت اگلے 4 سالوں میں 10,000 اقلیتی نوجوانوں کو آئی ٹی اور دیگر جدید ہنر (Vocational skills) بالکل مفت سکھائے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ وجے کے اس اقدام کو جہاں مسلم برادری اور ماہرینِ تعلیم کی جانب سے خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔