تعلیمی اداروں میں چھٹیاں نقصان کس کا؟

اس وقت اسلام آباد، پنجاب سمیت ملک کے اکثر علاقوں میں سرما کی تعطیلات جاری ہیں پنجاب میں گزشتہ ہفتے سرکاری طور پر اعلان کردہ تعطیلات ختم ہو گئیں تھیں صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے فیس بک پر ایک پول لگایا جس میں والدین اور اساتذہ سے چھٹیوں میں توسیع سے متعلق پول پر رائے معلوم کی گئی جس کے چند گھنٹوں بعد وزیر تعلیم نے چھٹیوں میں ایک ہفتہ توسیع کا اعلان کر دیا۔

چھٹیاں ہو گئیں بلکہ اب تو توسیع شدہ نوٹیفیکیشن کے مطابق ختم بھی ہو گئیں سوال یہ ہے ان چھٹیوں سے نقصان کتنا ہوا فائدہ کتنا؟تعلیمی اداروں میں تعطیلات اب محض موسمی ضرورت نہیں رہیں بلکہ ایک مستقل روایت بنتی جا رہی ہیں۔ کبھی شدید گرمی، کبھی سردی، کبھی بارش، اسموگ یا سیکیورٹی خدشات!، تعلیم سب سے پہلے متاثر ہوتی ہے۔ حالیہ سرما کی تعطیلات، خصوصاً پنجاب میں ایک ہفتے کی توسیع، نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر ان چھٹیوں کا فائدہ کس کو ہوتا ہے اور نقصان کس کا؟

یہ فیصلہ بظاہر عوامی رائے کی ترجمانی تھا، مگر کیا تعلیم جیسے سنجیدہ معاملے میں فیصلے اسی انداز میں ہونے چاہییں؟بلاشبہ، شدید سردی اور دھند میں چھوٹے بچوں کا اسکول جانا ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ مگر راولپنڈی ڈویژن میں جہاں فوگ ہے نہ اسموگ موسم بالکل نارمل ہے ایسے علاقوں میں چھٹیوں میں توسیع کر کے تعلیم کا ناقابل تلافی نقصان کیا گیا۔ ہونا تو یوں چاہیے جن علاقوں میں موسم شدید سخت ہو وہاں پر تعطیلات کا اضافہ کر دیا جائے

یا پھر اوقات کار مزید نرم کر کے تعلیمی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے، مگر حکمران طبقہ ہمیشہ تعطیلات کو آسان حل تصور کرتے ہوئے راہ فرار اختیار کر لیتا ہے جس کا نقصان کسی او رکو نہیں طلباء کو ہوتا ہے یہ بات وقتی طور پر سمجھ میں نہیں آتی مگر اس کے نقصانات بہت لمبے عرصے تک ہمارا پیچھا کرتے ہیں۔

تصویر کا دوسرا رخ کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔ پاکستان پہلے ہی تعلیمی ایمرجنسی کی کیفیت میں ہے۔ نصاب وقت پر مکمل نہیں ہو پاتا، تعلیمی معیار مسلسل گر رہا ہے اور سیکھنے کے بنیادی اہداف حاصل نہیں ہو رہے۔ اضافی چھٹیاں اس تعلیمی خسارے میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ خاص طور پر سرکاری اسکولوں کے طلبہ، جن کے پاس متبادل تعلیمی وسائل نہیں ہوتے، سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔نجی اسکولوں میں صورتحال اور بھی پیچیدہ ہے۔

فیس پوری وصول کی جاتی ہے مگر تعلیمی دن کم ہو جاتے ہیں۔ والدین یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جب تعلیم نہیں ہو رہی تو فیس کس بات کی؟ دوسری جانب اساتذہ پر دباؤ بڑھتا ہے کہ کم وقت میں زیادہ نصاب مکمل کریں، جس کا نتیجہ رٹے کی تعلیم اور امتحان مرکز سوچ کی صورت میں نکلتا ہے۔سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ تعلیمی فیصلے طویل المدتی منصوبہ بندی کے بجائے وقتی مقبولیت کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پول عوامی رائے جاننے کا ایک ذریعہ تو ہو سکتا ہے، مگر یہ تعلیمی پالیسی کا متبادل نہیں بن سکتا۔

تعلیم جذبات نہیں، سنجیدہ حکمتِ عملی مانگتی ہے۔تعطیلات میں اضافے کا ایک بڑا نقصان تعلیمی معیار میں کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ نصاب وقت پر مکمل نہیں ہو پاتا، جس کے نتیجے میں اساتذہ کو جلد بازی میں پڑھانا پڑتا ہے یا اہم اسباق چھوڑنے پڑتے ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر طلبہ کی سمجھ بوجھ اور امتحانی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ طلبہ میں سستی، غیر سنجیدگی اور وقت ضائع کرنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے، جو ان کی عملی زندگی میں بھی منفی اثرات چھوڑتی ہے۔غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ اس مسئلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ایسے طلبہ کے پاس مہنگے کوچنگ سینٹرز، آن لائن سہولیات یا گھریلو تعلیمی مدد دستیاب نہیں ہوتی۔ تعطیلات کے دوران ان کا تعلیمی نقصان پورا نہیں ہو پاتا، جس سے معاشرتی ناہمواری مزید بڑھ جاتی ہے۔ یوں تعلیم جو مساوات کا ذریعہ ہونی چاہیے، امتیاز کا سبب بن جاتی ہے۔تعطیلات میں اضافے سے والدین بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ بچوں کی مصروفیت کا مسئلہ، تعلیمی نقصان کا خدشہ اور مستقبل کی فکر والدین کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کی غیر سنجیدہ منصوبہ بندی پر عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی پالیسی مرتب کرتے وقت تعطیلات کو محدود اور منظم رکھا جائے۔ ہنگامی حالات کے علاوہ غیر ضروری تعطیلات سے گریز کیا جائے اور اگر تعطیلات ناگزیر ہوں تو متبادل تعلیمی منصوبہ ضرور تیار کیا جائے تاکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان کم سے کم ہو۔ تعلیم کو سیاسی، انتظامی یا وقتی سہولتوں کی نذر نہیں کرنا چاہیے اگر چھٹیاں دینی ہی ہوں تو آن لائن کلاسز، ہوم ورک، یا متبادل تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے تعلیمی تسلسل برقرار رکھا جائے۔

ورنہ فائدہ چند دن کے آرام تک محدود رہے گا اور نقصان ایک پوری نسل کو اٹھانا پڑے گا۔تعلیم کسی ایک صوبے، وزیر یا حکومت کا مسئلہ نہیں، یہ قومی مستقبل کا سوال ہے اور مستقبل کے ساتھ تجربے مہنگے ثابت ہوتے ہیں۔

تحریر شہزاد رضا