ماہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل مہنگائی کا طوفان

​ماہِ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، وہ مبارک گھڑیاں جن کا انتظار مومن کا دل سال بھر تڑپائے رکھتا ہے، اب بس دستک دے رہی ہیں۔ رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا یہ عظیم الشان قافلہ اپنے جلو میں سکونِ قلب اور تزکیہِ نفس کے انمول تحائف لیے وارد ہونے والا ہے لیکن صد افسوس کہ اس روحانی بہار کے استقبال سے قبل ہی ہمارے معاشرے میں مہنگائی کا ایک ہولناک طوفان بھی سر اٹھا چکا ہے، جس نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے خوشیوں کے اس چراغ کو فکر و تردد کی آندھیوں میں گھیر لیا ہے۔

اس پُر فتن دور میں جہاں آسمان سے اللہ کی رحمتیں برسنے کا وقت ہوتا ہے، وہاں زمین پر بسنے والے چند مفاد پرست عناصر نے اشیاءِ ضرورت کی قیمتوں کو یک لخت آسمان تک پہنچا دیا ہے اور وہ پھل، سبزیاں اور غلہ جو عام آدمی کی بنیادی ضرورت تھے، اب ان کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ مہنگائی کا یہ تلاطم محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے اخلاقی زوال کی بھی نشانی ہے کیونکہ جس مہینے میں ہمیں ایثار اور ہمدردی کا درس دیا گیا تھا، اسی میں ذخیرہ اندوزی اور بے جا منافع خوری کا بازار گرم کر دیا گیا ہے۔

بلاشبہ، یہ وقت صرف شکوہ و شکایت میں گزارنے کا نہیں بلکہ اپنے نفس کے احتساب اور مصلحتِ وقت کو سمجھنے کا ہے۔ اگر ہم اپنے دسترخوانوں کو شاہانہ اسراف اور دکھاوے سے پاک کر کے سادگی کی چادر اوڑھ لیں تو مہنگائی کا یہ جادو خود بخود ٹوٹنے لگے گا کیونکہ ​ماہِ رمضان المبارک کا اصل فلسفہ پیٹ بھرنے میں نہیں بلکہ روح کو منور کرنے میں پوشیدہ ہے۔ سحر و افطار میں انواع و اقسام کے پکوانوں کے بجائے اگر ہم قناعت اور شکر گزاری کو اپنا شعار بنا لیں تو ہماری تھوڑی سی آمدنی میں بھی اللہ کریم ایسی برکت نازل فرمائے گا جس کا تصور مادی پیمانے نہیں کر سکتے۔ آج سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ضرورتوں کو محدود کریں اور اپنے اردگرد بسنے والے ان سفید پوش بھائیوں کا خیال رکھیں جو اپنی عزت نفس کی وجہ سے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے لیکن مہنگائی کے اس طوفان میں ان کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔

یاد رکھیے، سچی عبادت وہی ہے جو انسان کو دوسرے انسان کے دکھ کا مداوا کرنا سکھائے لہٰذا اگر ہم نے اس ​ماہِ رمضان المبارک میں اپنے اخراجات میں سے کچھ حصہ نکال کر کسی نادار کی سحری یا افطاری کا بندوبست کر دیا تو یہی عمل ہماری نجات کا ذریعہ اور اللہ کی رضا کا سبب بنے گا۔ پروردگارِ عالم سے دعا ہے کہ وہ اس ماہِ مبارک کو ہم سب کے لیے برکتوں کا گہوارہ بنا دے، مہنگائی کے اس بوجھ کو ہلکا فرمائے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر چلتے ہوئے ایثار و ہمدردی کی حقیقی شمع روشن کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔