بابائے اٹک سعادت حسن آس کا چودھواں نعتیہ مجموعہ “آخرشب کی مناجات” شائع — ادبی حلقوں میں بھرپور پذیرائی

اٹک کے ممتاز بزرگ شاعر ،،بابائے اٹک،، سعادت حسن آس کا چودھواں نعتیہ شعری مجموعہ “آخرشب کی مناجات” شائع ہو گیا ہے۔ یہ مجموعہ نعت اپنی روحانیت، سادگی اور فکری پختگی کے باعث ادبی و مذہبی حلقوں میں خصوصی پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔

کتاب کے سرورق پر سجدہ ریز بندے کا نورانی منظر نعتیہ کیفیت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

اس شعری مجموعے پر معروف ادیب و افسانہ نگار ارم ہاشمی، ادیب و صحافی شہزاد حسین بھٹی، شاعر و ادیب حبدار قائم اور سینئر شاعر ادیب صحافی کالم نگار اقبال زرقاش کی آراء شامل ہیں، جنہوں نے سعادت حسن آس کی نعتیہ شاعری کو عشقِ رسول ﷺ کے نہایت لطیف اور دل نشیں اظہار کا درجہ دیا ہے۔

سعادت حسن آس کے اب تک چودہ نعتیہ مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں، جن میں آقا ہمارے، آس کے پھول، آدھا سورج، آس، آپ بہت یاد آئے، آپ ساکنِ دل ہیں، آہنگِ نور، خوشبو، آدمی اک لمحہ ہے سمیت کئی اہم مجموعے شامل ہیں۔ “آخرشب کی مناجات” ان کے نعتیہ سفر کی تازہ ترین اور نہایت پختہ کاوش ہے۔

سعادت حسن آس کا یہ اعزاز ہے کہ وہ ضلع اٹک کے واحد شاعر ہیں جن کے سب سے زیادہ نعتیہ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں، اور یہ سلسلہ تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔

انہیں اپنی نعتیہ خدمات پر مختلف ادوار میں اہم اعزازات سے نوازا گیا، جن میں:

• 1997 میں پاکستان کے عالمی مشاعرے میں آدھا سورج پر خصوصی پذیرائی

• 2016 میں آقا ہمارے پر ایوارڈ

• 2019 میں آدھا سورج پر شیلڈ

• 2021 اور 2022 میں مختلف ادبی تنظیموں کی طرف سے اعزازات

• 2023 میں اسلام آباد اور نارووال میں خصوصی اعزازات

• 2024 میں پاکستان کے بڑے عالمی مشاعرے میں خصوصی دعوت شامل ہیں

ادبی و مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ سعادت حسن آس کی شاعری نرم لہجے، سادہ بیان اور محبتِ رسول ﷺ کی سرشاری سے لبریز ہے، جو قاری کے دل پر براہِ راست اثر کرتی ہے۔

“آخرشب کی مناجات” کو نعت سے محبت رکھنے والوں کے لیے ایک روحانی تحفہ اور اٹک کی ادبی روایت کا چمکتا ہوا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

معروف شاعر سعادت حسن آس اپنا تازہ شعری مجموعہ شاعر و ادیب اقبال زرقاش کو پیش کر رہے ہیں