ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایرانی حکومت نے ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
- ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے تصدیق کی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای سنیچر کی صبح اپنے دفتر میں ہلاک ہو گئے۔
- ایک ٹی وی میزبان نے کہا ملک میں 40 روزہ سوگ کا آغاز ہو گیا ہے اور جلد از جلد ان کا جانشین مقرر کیا جائے گا۔
- ہلالِ احمر کے مطابق ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور بی بی سی کے میڈیا پارٹنر، سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کیا کہ تقریباً 40 ایرانی حکام ہلاک ہوئے ہیں۔
- جنوبی ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک سکول پر حملے میں 108 ہلاکتیں ہوئیں جن میں زیادہ تعداد طالبات کی ہے۔ اس حملے میں متعدد طالبات زخمی بھی ہوئی ہیں
- ردعمل میں ایران نے مشرق وسطیٰ میں، امریکی اتحادیوں اور امریکی فوجی اڈوں پر حملے شروع کر دیے ہیں، جن میں دبئی، دوحہ، بحرین، اور کویت شامل ہیں۔
ایران کی حکومت نے سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کی سرکاری تصدیق کے بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ: ’اس بڑے جرم کا جواب دیا جائے گا اور یہ اسلام اور شیعہ تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز کرے گا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس بار بھی ہم پوری طاقت کے ساتھ، امتِ اسلامی اور دنیا کے آزاد لوگوں کے اعتماد کے ساتھ، اس جرم کے کرنے والوں اور حکم دینے والوں کو پچھتانے پر مجبور کر دیں گے۔‘امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ امریکی اڈوں اور اسرائیل پر حملہ کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے: چند لمحوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج مقبوضہ علاقوں اور امریکی دہشت گرد اڈوں پر تاریخ کی سب سے تباہ کن جارحانہ کارروائی شروع کریں گی۔‘ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای سنیچر کی صبح اپنے دفتر میں ’امور انجام دیتے ہوئے‘ حملے میں مارے گئے۔
بی بی سی ویریفائی نے سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے پہلے ہی تصدیق کی تھی کہ تہران میں واقع لیڈرشپ ہاؤس کمپاؤنڈ، جو خامنہ ای کا دفتر ہے، اس کے کچھ حصوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ خامنہ ای کی اپنے دفتر میں موت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے چھپنے کی رپورٹس ’دشمن کی نفسیاتی جنگ‘ تھیں۔ایک گھنٹہ قبلتاحال رہبرِ اعلی کے جانشین کا اعلان نہیں کیا گیا
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے بیان کے بعد ایران کے کئی سرکاری میڈیا اداروں نے آیت اللہ خامنہ ای کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹے پہلے کہا تھا کہ ایران کے کئی مقامات پر اسرائیل کے ساتھ مشترکہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر مارے گئے ہیں۔
بیان میں یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ 86 سالہ رہنما کس طرح ہلاک ہوئے، اور نہ ہی اس بات کا کہ ان کے بعد قیادت کون سنبھالے گا۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.