اسلام میں خواتین کے حقوق

مولانا اسرار الحق خواتین کے حقوق کے بارے میں مختلف حلقوں سے آواز اٹھتی رہتی ہے طلاق، کثرت ازواج اور خواتین کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں شرکت ایسے موضوعات ہیں جنہیں میڈیا ضرورت سے زیادہ اچھال رہا ہے۔یہ بات درست ہے کہ مغربی عورت طویل مدت اور مسلسل ان تھک جدوجہد کے بعد بالآخر سماج‘قانونی، معاشی اور سیاسی حقوق حاصل کر چکی ہے لیکن اس دوران وہ بہت کچھ گنوا بیٹھی ہے۔عزیز قارئین! اگر آپ مغربی معاشرے کا بغور تجزیہ کریں تو آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ مغربی عورت بہت کچھ کھو چکی ہے وہ خاندانی نظام زندگی سے محروم ہوئی، ذہنی سکون سے محروم ہوئی یہاں تک کہ وہ اپنے وقار، عزت اور نسوانیت سے بھی محروم ہوگئی ہے دوسری طرف اگر آپ اسلام کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اسلام نے آج سے چودہ سو برس پہلے ہی عورت کو بے شمار حقوق جو ایک عورت کے لیے ضروری تھے وہ عطا کر دیے تھے حالانکہ یہ وہ وقت ہے جب دنیا کی دیگر تہذیبیں یہ سوچ رہی تھیں کہ عورت کو انسان تسلیم کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا میں تشریف لائے تو دو طبقے سب سے زیادہ مظلوم اور قابل رحم تھے ایک غلاموں کا اور دوسرا عورتوں کایوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانیت کے لئے ابر رحمت بن کر تشریف لائے اور ہر انسان کو ظلم و ناانصافی سے نجات دلانے کی کوشش کی لیکن ان دو طبقوں کے ساتھ حسن سلوک کی خاص طور پر تلقین فرمائی اور اس کے لئے محض اخلاقی ہدایات پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ ایک ایسا نظام قانون انسانیت کو دیا جس میں ہر مرحلہ پر خواتین کے حقوق کو اہمیت دی گئی یہ حقوق زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق ہیں مثلا روحانی حقوق، معاشی حقوق، تعلیمی حقوق، مالی حقوق، قانونی حقوق وغیرہ وغیر ہ مالی حقوق پر بات کی جائے تو اسلام سے پہلے اکثر مذاہب میں خواتین کا میراث میں کوئی حق نہیں سمجھا جاتا تھاعرب، یہود اور ہندووں کے ہاں عورت کا میراث میں کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا یہاں تک کہ انیسویں صدی تک یورپ میں بھی عورتوں کو وراثت میں کوئی حصہ نہیں ملتا تھا اسلام نے جہاں مرد رشتہ داروں کو وراثت کا حصہ دار بنایا ہے وہی ان کی ہم درجہ خواتین کو بھی میراث کا مستحق قرار دیا والد کی طرح والدہ کو بیٹے کی طرح بیٹی کو بھائی کی طرح بہن کو اور شوہر کی طرح بیوی کو آج پوری دنیا میں خواتین کو جو ترکہ کا مستحق مانا جاتا ہے وہ دراصل شریعت اسلامی کا عطیہ ہے اسلام کے قانون میراث میں جن رشتہ داروں کو مقدم رکھا گیا ہے جو کسی حال میں ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتے وہ 6 ہیں جن میں تین مرد باپ، بیٹا اور شوہر اور تین عورتیں ہیں ماں، بیٹی اور بیوی اس ضمن میں عرض کرتا چلوں کہ اس وقت معاشرے میں اصل مسئلہ عورتوں کو ترکہ سے محروم کرنے کا ہے قرآن مجید میں ترکہ کو ”فریضۃ من اللہ”(النساء، 11) یعنی اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا حکم کہا گیا ہے اور ترکہ کے احکام بیان کرنے کے بعد کہا گیا ہے کہ ”یہ اللہ تعالی کی حدود ہے ان سے تجاوز نہ کرو”(انساء، 13)اس سے معلوم ہوا کہ عورت کو جو میراث ملتا ہے وہ اس کے مرد رشتہ دار نہیں دیتے بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے دیا ہوا حصہ ہے اس میں کمی بیشی کرنا اللہ کے حق میں دخل دینے کے مترادف ہے اور اس سے بڑھ کر اور زیادتی کیا ہو سکتی ہے؟افسوس! کہ بہت سے مسلمان خاندانوں میں بہنوں کے حصے پر بھائی قابض ہو جاتے ہیں والد کے انتقال کے بعد بیٹے سب پر قابض ہو جاتے ہیں اور بیوہ ماں کو اس کا حصہ نہیں دیتے بھائی کے فوت ہونے پر بھاوج (بھابھی) کو اس کے حق سے محروم کردیا جاتا ہے اور یتیم بچیوں اور بچوں کو حق سے محروم کردیا جاتا ہے کیا یہ کھلی ناانصافیاں نہیں ہیں؟ اگر ماں اور بہنوں اور یتیم بچیوں کا حق نہیں دیا گیا تو تمام مال میں حرام عنصر شامل ہو جاتا ہے جو کہ نہ صرف آخرت کو ضائع اور برباد کر دے گا بلکہ دنیا میں بھی وہ اولاد اس سے متاثر ہوتی ہے جن کی پرورش حرام مال سے کی ہو وہ کبھی والدین سے وفا نہیں کرتے بلکہ حدیث میں کثرت سے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ حرام اتنی بری بات ہے کہ اس سے انسان کی عبادتیں بھی نا مقبول اور بیتاثیر ہوتی ہیں اس لیے خواتین کو ان کا حق ضرور دینا چاہیے اور اپنی زندگی کو حرام سے بچانا چاہیے اب اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں شریعت نے بنیادی طور پر خواتین سے متعلق تمام اخراجات کی ذمہ داری مرد پر رکھی ہے قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مردوں کو ”قوام” یعنی سربراہ خاندان بنایا ہے اس کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ خواتین کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور اس کی ذمہ داری کو قبول کرتا ہے اور یہ بات شریعت اسلامی میں اس قدر ملحوظ ہے کہ مرد اور عورت ایک ہی درجہ کے رشتہ دار ہوں اور نفقہ کے مستحق ہو تو عورت کو مرد پر ترجیح حاصل ہوگی مثلا بیٹے کا نفقہ بالغ ہونے کے بعد اس وقت واجب ہو گا جب کہ وہ معذور ہو اور بیٹی کا نفقہ شادی تک واجب رہے گاشریعت نے خاندانی نظام کے بقاء، بچوں کی بہتر نگہداشت اور خواتین کی فطری صلاحیت کی رعایت کرتے ہوئے ذمہ داریوں کی تقسیم یوں کی ہے کہ کسب معاش کی ذمہ داری جس کے لیے محنت، مزدوری اور بھاگ دوڑ کی ضرورت پیش آتی ہے وہ مرد کے پر رکھی گئی ہے اور امور خانہ داری خواتین سے متعلق رکھے گئے ہیں اس کی یہ تعبیر درست نہیں ہے کہ عورت گھر کی خادمہ ہے بلکہ صحیح تعبیر یہ ہے کہ عورت گھر کی مالکہ ہے اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”عورت گھر کی ذمہ دار اور انچارج ہے”(بخاری، کتاب العتق 2545)اور اس کے برعکس مغربی دنیا میں عورتوں سے دوہری خدمت لی جاتی ہے کہ وہ خانہ داری بھی کرے بچے بھی سنبھالے اور کام کر کے پیسے بھی کمائے اور معاشی ذمہ داریوں میں بھی شامل ہواس لیے یہ بات خوب سمجھ لینی چاہیے کہ آزادی کا نعرہ لگانے والے چند بے دین لوگ عورتوں کو بے پردہ کرکے ان تک حصول کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں جبکہ ایک غزوہ سے واپسی پر ایک عورت کا بیٹا واپس نہ آیا اب ظاہر ہے کہ اس وقت اس ماں کی بیتابی کی کیا کیفیت ہوگی اس بے تابی میں وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑیں اور دریافت کیا کہ میرے بیٹے کا کیا ہوا؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جواب دیا کہ تمہارا بیٹا شہید ہوگیا ہے اب بیٹے کی شہادت کی اطلاع اس پر بجلی بن کر گری اس اطلاع پر اس نے جس صبر و ضبط سے کام لیا وہ اپنی جگہ ہے لیکن اس موقع پر کسی شخص نے خاتون سے پوچھا تم اتنی پریشانی کے عالم میں گھر سے نکلی ہو اس حالت میں بھی تم اپنے چہرے پر نقاب ڈالنا نہیں بھولیں؟ تو خاتون نے جواب میں کہا کہ ”میرا بیٹا فوت ہوا ہے میری حیا فوت نہیں ہوئی یعنی میرے بیٹے کا جنازہ نکلا ہے میری حیا کا جنازہ نہیں نکلا اس حالت میں بھی پردے کا اتنا اہتمام فرمایا۔ اللہ تعالی ہمیں قرآن و شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

اپنا تبصرہ بھیجیں