اجتماعی ترقی صرف انفرادی ترقی سے

شاہد جمیل منہاس
ماہرین نفسیات کے بقول عام طورپرایک انسان پیدائشی طورپربے شمارصلاحیتوں کامالک ہوتاہے لیکن عملی طورپرہزاروں اورلاکھوں صلاحیتوں کامالک صرف دس فیصدصلاحیتوں کواستعمال کرتاہے۔اس حوالے سے ہارورڈیونیورسٹی کے پروفیسرولیم جیمزنے ایک بہت خوبصورت بات کی ہے کہ’’جوکچھ ایک انسان کوبنناچاہیے انسان وہ کچھ بننے کے لئے تیارنہیں۔‘‘اس کے بقول انسان ساری زندگی دوسروں سے شکایت کرتا رہتا ہے کہ دوسرے اسے کچھ نہیں دیتے۔لیکن سب سے پہلے ہمیں خودہی سے شکایت کرنی چاہیے کہ اللہ کی ذات نے ہمیں کامیابیوں اورترقیوں کے لئے بے شمارصلاحیتیں عطاکی ہیں۔ ہم ان کے حصول کے لئے اپنے اندرموجودصلاحیتوں کواستعمال کرکے افادہ حاصل نہیں کرپارہے۔یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ایک انسان کے گھرمیں کوئی پھل داردرخت ہومگروہ پھل اتارنے کی کوشش یاتکلیف تک گوارانہ کرے اورشکایت یہ کرے کہ اس کے پاس کھانے کے لئے پھل نہیں۔پھرہوتاکیاہے کہ وہ پھل گل سڑجاتاہے مگرمکیں اس سے محروم رہ جاتاہے۔ایسے ہی جب کوئی اپنی صلاحیتوں سے فائدہ حاصل نہیں کرپاتاتواس کی صلاحیتوں کوزنگ لگ جاتاہے۔ جس طرح اللہ کی ذات نعمتوں کی ناشکری پرناراض ہوجاتی ہے،بالکل ایسے ہی جب ایک باصلاحیت انسان اپنی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتااورانہیں ضائع کردیتاہے تورب کی ذات اس انسان سے خفاہوجاتی ہے اوراس کے بعدناکامیاں اس شخص کامقدربن جایاکرتی ہیں۔ایک انسان خوداپناہی دوست بھی ہے اوردشمن بھی ہے۔اگرکوئی آدمی صبح سویرے نہیں اٹھ سکتااوردن کے سارے کام ادھورے صرف اس لئے چھوڑدیتاہے کہ وہ دیرتک سوتارہاتویہاں پریہ آدمی خوداپناہی دشمن ہے۔اوراگرکوئی وقت کاپابنداورہرکام اپنے وقت پراورمکمل اندازمیں کرنے کاعادی ہے تووہ خوداپناسب سے پیارااورمخلص دوست ہے۔انسان بھی بعض اوقات بہت عجیب اوراحمقانہ حرکات کرتاہے۔زیادہ کھانے کے بعدیہ یقین رکھتاہے کہ وہ پہلوان بن جائے گا۔جبکہ اس طرح وہ معدہ کی بے شماربیماریوں کاشکارہوجاتاہے۔کیونکہ معدہ انسانی جسم کی سب سے بڑی،ضروری اورلازم مشینری ہے کہ جس کے بغیردل بھی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ ایک انسان کونوکری سے صرف اس لئے نکال دیاجاتاہے کہ وہ صبح وقت پراپنے دفتریاکام پر نہیں آسکتا۔کیونکہ وہ یہ سمجھتاہے کہ زیادہ سونے سے وہ صحت مندہوجائے گا۔یاکچھ بدبخت لوگ صرف چندمنٹ کی نیندکے ہاتھوں ساری زندگی ذلیل ہوتے رہتے ہیں۔قدیم دورمیں جاہلیت چونکہ عام تھی تولوگوں کاخیال تھاکہ سونے اورچاندی کاہوناہی دولتمندی کاذریعہ یانشانی ہے۔لہٰذااس زمانے میں لوگ سالہاسال لوہے کوسونابنانے کی کوشش میں لگے رہتے مگرلوہاسوناکیسے بن سکتاہے۔بے شمارلوگ ہزاروں برس لوہے کوسونابنانے کی کوشش کرتے رہتے مگربالآخران کے ہاتھ وقت کے ضیاع اوردولت کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہ آیا۔ لہٰذا وہ لوگ لوہے کو سونا بنانے کی حسرت دل ہی میں لئے مرتے رہے۔ جوں جوں وقت کا پہیہ چلتارہاتومعلوم ہواکہ رب کی اس دنیامیں لوہے کوسونابنانے سے بڑاامکان موجودہے۔وہ یہ کہ لوہے کومشین میں تبدیل کیاجائے۔پھروہ دن اورآج کایہ دن کہ مشینیں سونے اورچاندی سے بھی زیادہ دولت دے رہی ہیں۔اوریوں انسان لوہے کوسونے میں تبدیل کئے بغیراس سے کئی گنازیادہ دولت کے حصول کوممکن بنارہاہے۔انسانی تگ و دو ،وہ معیارزندگی ہے کہ جس کاکوئی جواب نہیں۔ایک مزدورصبح سے شام تک بے شمارمعاملات سے دوچارہوتاہے جس میں سب سے بڑاکام اس کاصبح سے رات تک اپنے گھروالوں کے لئے محنت کرناہے۔ایک مزدورسے لے کرایک افسرتک ہرکوئی ایک ہی مقصد کے لئے کام کررہاہوتاہے اوروہ مقصدیہ ہے کہ اپنے بچوں کاپیٹ پالنااوران کی بہترگزربسرکے لئے اقدامات کرنا۔ناکامیوں اورکامیابیوں کادارومدارانسان کی سوچ پر ہے۔ کوئی انسان جتنااچھاسوچتاہے اتنازیادہ خوش،کامیاب اورمطمئن ہوتاہے۔اوراگرکوئی غلط سوچ کامالک ہے تووہ بے شمارسہولتوں اوردولت کے باوجودناخوش اورپریشان حال پایا جاتاہے۔اوریہ فلسفہ دنیاکے ہرمذہب کاحصہ ہے۔ایک انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اور اس کاہررشتہ کامیاب ہو۔ایک شہرکی کامیابی یہ ہے کہ اس شہرکاکونہ کونہ ترقی یافتہ ہو۔ اورایک ملک کی کامیابی یہ ہے کہ اس کے تمام صوبے،اس ملک کے تمام اضلاع اوراس ملک کا کونہ کونہ ترقی یافتہ ہویاترقی کی منازل طے کرتارہے۔اوردوسری طرف نتیجہ یہ نکلتاہے کہ اگرافراداپنی ترقی کیلئے محنت کریں تووہ خودتوترقی یافتہ ہوں گے مگریہ ملک اوراس کے تمام صوبے اوراضلاع یعنی ملک کاکونہ کونہ ترقی یافتہ نظر آئے گا۔ظاہریہ ہواکہ کسی ملک کے سربراہ کوملکی ترقی کے لئے عوام کی ترقی پرتوجہ دیناہوگی۔اورعوام کوچاہیے کہ ملکی ترقی کوپروان چڑھانے کے لئے اپنی ترقی کی خاطرمحنت کریں۔یہ تمام عوامل ملکرانفرادی ترقی اورقومی ترقی کویقینی بناتے ہیں۔کہاجاتاہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔یعنی ایک ہاتھ اگرتالی بجاناچاہے تویہ ٹال مٹول ہی کہلائے گی نہ کہ تال یاتالی۔یعنی ایک گھر،محلے اورشہرتک ایک ہاتھ کی کامیابی کے لئے دوسرے ہاتھ نے اپناکرداراداکرناہے ورنہ دونوں ناکام۔جیسے کہ تالی بجانے کے لئے دونوں کوحرکت میںآناہوگا۔بالکل ایسے ہی کسی معاشرے کی اجتماعی ترقی کے لئے تمام افراداورتمام ادارے مل کرمقاصدکے حصول کے لئے اپنادن رات ایک کریں گے توتب جاکرآنے والی نسلیں ان افراداوراہل اقتدارکے کارنامے اپنی کتابوں میں رقم کرکے انہیں نصاب کاحصہ بنانے پرمجبورہوں گے کہ ان کے بغیرترقی کی منازل طے کرنا ناممکن تو نہیں مگر مشکل یا مشکل ترین ضرور ہو جاتا ہے۔ آج اس دور حاضر میں قوموں کے اجتماعی کردارکی ناپیدی سامنے یاآڑے آرہی ہے۔یہ مسائل تمام تروسائل کو ناکارہ بنارہے ہیں۔یہاں تک کہ جوملک خودکوساری دنیاکاسربراہ اورپوری کائنات کا مالک اور تمام ممالک کانمبردارسمجھتاتھاوہ خود ناگہانی آفات میں مبتلاہے۔اورحیران و پریشان ہے کہ اس کے ساتھ یہ کیاہورہاہے۔وہ توایک پٹاخے کے ذریعے اردگردکے تمام دشمنوں کو نیست و نابود کے منصوبے بنا رہا تھا مگر آج وہ خودناگہانی آفات کی نذر ہو رہا ہے۔ توان سوالات کاایک ہی جواب ہے کہ انسانی عقل ناقص ہے۔اللہ کے حکم کے بغیرایک انسان جوپیدائشی طورپرہزاروں صلاحیتوں کامالک ہوتاہے وہ ان میں سے صرف دس فیصد استعمال کرتاہے اورباقی تمام صلاحیتوں کوضائع کرنے کے بعدساری زندگی پچھتاتا رہتاہے۔یہی انسان اس رب کے حکم پرصرف دس فیصدصلاحیتوں کے ساتھ بھی پیدا ہو سکتا تھا۔ اس کے بعدکوئی یہ تجسس نہ پیداکرسکتاکہ ایک انسان ہزاروں صلاحیتوں کامالک ہے مگر ان سے استفادہ نہیں کر پا رہا بلکہ اس صورتحال میں ایک انسان اپنی چند صلاحیتوں کو سو فیصد استعمال کرکے کامیاب ترین بن جاتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں