وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان جمعے کی دوپہر ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے۔یو اے ای کے صدر کی پاکستان آمد پر ان کا شاندار تاریخی استقبال کیا گیا، پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے یو اے ای کے صدر کے طیارے کو حصار میں لیا اور فضائی سلامی دی۔بعد ازاں نور خان ائیر بیس پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزرا نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا، متحدہ عرب امارات کے صدر کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی اور گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کے صدر کا حالیہ دور? پاکستان محض ایک سفارتی تقریب نہیں بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی، معاشی اور تزویراتی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کو معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور علاقائی سفارت کاری کو مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات خطے میں ایک ذمہ دار اور بااثر شراکت دار کے طور پر اپنا کردار مزید وسیع کر رہا ہے۔
سیاسی و سفارتی اعتبار سے یہ دورہ پاکستان اور یو اے ای کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کی تجدید کا مظہر ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات محض سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ مذہبی، ثقافتی اور عوامی جذبات سے جڑے ہوئے ہیں۔ اماراتی قیادت کا پاکستان آنا اس اعتماد کا اظہار ہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم ریاست ہے اور اس کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔ اس دورے سے یہ پیغام بھی گیا کہ خلیجی ممالک پاکستان کو تنہا چھوڑنے کے بجائے اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
معاشی پہلو اس دورے کا سب سے نمایاں اور عملی پہلو ہے۔ متحدہ عرب امارات پہلے ہی پاکستان میں بڑے سرمایہ کاروں میں شمار ہوتا ہے، اور اس دورے کے دوران توانائی، انفراسٹرکچر، بندرگاہوں، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر بات ہوئی۔ پاکستان کے لیے یہ سرمایہ کاری نہ صرف زرِمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لا سکتی ہے بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر کھڑا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ یو اے ای کے لیے پاکستان ایک بڑی مارکیٹ، سستی افرادی قوت اور طویل المدتی سرمایہ کاری کا موزوں مرکز ہے۔
دفاعی اور تزویراتی سطح پر بھی یہ دورہ اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دفاعی تعاون پہلے سے موجود ہے، جس میں تربیت، مشترکہ مشقیں اور سیکیورٹی تعاون شامل ہے۔ اس دورے نے اس اعتماد کو مزید مضبوط کیا کہ دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام اور انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔ بالخصوص مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں یہ ہم آہنگی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے بھی یہ دورہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لاکھوں پاکستانی متحدہ عرب امارات میں روزگار سے وابستہ ہیں اور وہاں کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اماراتی صدر کا دورہ دراصل ان پاکستانیوں کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہے کہ انہیں محض مزدور نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل سمجھا جاتا ہے۔ ویزا، روزگار اور مہارتوں کے فروغ سے متعلق تعاون مستقبل میں پاکستانیوں کے لیے مزید مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
علاقائی سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ دورہ پاکستان کے سفارتی توازن کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ ایک طرف چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری، دوسری جانب خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات، پاکستان کو ایک متوازن اور فعال خارجہ پالیسی کی طرف لے جاتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ قربت سے پاکستان کو نہ صرف معاشی سہارا ملتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ میں بھی بہتری آتی ہے۔
مجموعی طور پر متحدہ عرب امارات کے صدر کا دور? پاکستان اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک محض ماضی کے تعلقات پر اکتفا نہیں کرنا چاہتے بلکہ مستقبل کی مشترکہ ضروریات اور مواقع کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ اصل امتحان اب ان معاہدوں اور اعلانات کو عملی شکل دینے کا ہے۔ اگر یہ دورہ ٹھوس نتائج میں بدل سکا تو یہ پاکستان کی معاشی بحالی، سفارتی وقار اور علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
ضیاء الرحمن ضیاءؔ