حفصہ اقبال
تعلیم صرف کتابوں کے اوراق تک محدود نہیں ہوتی، یہ دراصل کردار سازی، سوچ کی تعمیر اور خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کا ایک مسلسل عمل ہے—اور اس عمل کے اصل معمار اساتذہ ہوتے ہیں۔ ہر کامیاب فرد کے پیچھے ایک ایسی شخصیت ضرور ہوتی ہے جو اس کے اندھیرے راستوں میں روشنی بن کر ابھرتی ہے۔ میرے لیے یہ روشن مثال ڈاکٹر احسن اقبال ہیں۔ڈاکٹر احسن اقبال کا اندازِ تدریس محض معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب کی مانند ہے۔ وہ طلبہ کو صرف سکھاتے نہیں بلکہ انہیں سوچنے، سوال کرنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں ایسا اثر ہوتا ہے جو طالب علم کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو جگا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رہنمائی میں سیکھنا ایک تجربہ نہیں بلکہ ایک تبدیلی بن جاتا ہے۔میری اپنی تعلیمی زندگی میں بھی ایک ایسا وقت آیا جب راستے دھندلے محسوس ہونے لگے تھے، خود اعتمادی کمزور پڑ رہی تھی اور ہمت جواب دے رہی تھی۔ ایسے میں ڈاکٹر احسن اقبال کی حوصلہ افزائی میرے لیے ایک نئی امید بن کر سامنے آئی۔ ان کے چند سادہ مگر پراثر جملوں نے میرے اندر وہ یقین پیدا کیا جس نے مجھے دوبارہ کھڑا ہونا سکھایا۔ انہوں نے یہ باور کروایا کہ کامیابی صرف ذہانت کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل محنت، نظم و ضبط اور اپنے اوپر یقین کا ثمر ہوتی ہے۔ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ ہر طالب علم کو انفرادی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر ذہن ایک نئی کہانی ہے، جسے سمجھنا اور سنوارنا ایک استاد کی اصل ذمہ داری ہے۔ وہ کلاس روم کو محض ایک تدریسی جگہ نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیتے ہیں جہاں خیالات کو آزادی اور صلاحیتوں کو اظہار ملتا ہے۔آج جب میں اپنی پیش رفت پر نظر ڈالتی ہوں تو واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف میری محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مخلص استاد کی رہنمائی کا عکس ہے۔ ڈاکٹر احسن اقبال جیسے اساتذہ دراصل وہ خاموش معمار ہیں جو قوم کے مستقبل کو تراشتے ہیں، بغیر کسی صلے یا ستائش کی توقع کے۔معاشروں کی ترقی کا راز جدید عمارتوں یا ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ ان اساتذہ میں پوشیدہ ہوتا ہے جو نئی نسل کو سنوارنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ایسے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنا محض الفاظ کا تقاضا نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔اگر ہم واقعی ایک روشن مستقبل کے خواہاں ہیں تو ہمیں اپنے اساتذہ کی قدر کو سمجھنا ہوگا، ان کے کردار کو تسلیم کرنا ہوگا اور ان کے سکھائے ہوئے اصولوں کو اپنی زندگیوں میں جگہ دینی ہوگی۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ مضبوط قوموں کی بنیاد ہمیشہ عظیم اساتذہ کے ہاتھوں ہی رکھی جاتی ہے۔
تعلیم صرف کتابوں کے اوراق تک محدود نہیں ہوتی، یہ دراصل کردار سازی، سوچ کی تعمیر اور خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کا ایک مسلسل عمل ہے—اور اس عمل کے اصل معمار اساتذہ ہوتے ہیں۔ ہر کامیاب فرد کے پیچھے ایک ایسی شخصیت ضرور ہوتی ہے جو اس کے اندھیرے راستوں میں روشنی بن کر ابھرتی ہے۔ میرے لیے یہ روشن مثال ڈاکٹر احسن اقبال ہیں۔

ڈاکٹر احسن اقبال کا اندازِ تدریس محض معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب کی مانند ہے۔ وہ طلبہ کو صرف سکھاتے نہیں بلکہ انہیں سوچنے، سوال کرنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں ایسا اثر ہوتا ہے جو طالب علم کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو جگا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رہنمائی میں سیکھنا ایک تجربہ نہیں بلکہ ایک تبدیلی بن جاتا ہے۔
میری اپنی تعلیمی زندگی میں بھی ایک ایسا وقت آیا جب راستے دھندلے محسوس ہونے لگے تھے، خود اعتمادی کمزور پڑ رہی تھی اور ہمت جواب دے رہی تھی۔ ایسے میں ڈاکٹر احسن اقبال کی حوصلہ افزائی میرے لیے ایک نئی امید بن کر سامنے آئی۔ ان کے چند سادہ مگر پراثر جملوں نے میرے اندر وہ یقین پیدا کیا جس نے مجھے دوبارہ کھڑا ہونا سکھایا۔ انہوں نے یہ باور کروایا کہ کامیابی صرف ذہانت کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل محنت، نظم و ضبط اور اپنے اوپر یقین کا ثمر ہوتی ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ ہر طالب علم کو انفرادی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر ذہن ایک نئی کہانی ہے، جسے سمجھنا اور سنوارنا ایک استاد کی اصل ذمہ داری ہے۔ وہ کلاس روم کو محض ایک تدریسی جگہ نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیتے ہیں جہاں خیالات کو آزادی اور صلاحیتوں کو اظہار ملتا ہے۔
آج جب میں اپنی پیش رفت پر نظر ڈالتی ہوں تو واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف میری محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مخلص استاد کی رہنمائی کا عکس ہے۔ ڈاکٹر احسن اقبال جیسے اساتذہ دراصل وہ خاموش معمار ہیں جو قوم کے مستقبل کو تراشتے ہیں، بغیر کسی صلے یا ستائش کی توقع کے۔
معاشروں کی ترقی کا راز جدید عمارتوں یا ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ ان اساتذہ میں پوشیدہ ہوتا ہے جو نئی نسل کو سنوارنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ایسے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنا محض الفاظ کا تقاضا نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔
اگر ہم واقعی ایک روشن مستقبل کے خواہاں ہیں تو ہمیں اپنے اساتذہ کی قدر کو سمجھنا ہوگا، ان کے کردار کو تسلیم کرنا ہوگا اور ان کے سکھائے ہوئے اصولوں کو اپنی زندگیوں میں جگہ دینی ہوگی۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ مضبوط قوموں کی بنیاد ہمیشہ عظیم اساتذہ کے ہاتھوں ہی رکھی جاتی ہے۔
مصنفہ: حفصہ اقبال، طالبہ
Rawalpindi Women University، راولپنڈی