چین کی فوجی قیادت میں  ہلچل نے  چین سمیت پوری دنیا کے سیاسی اور دفاعی حلقوں کو چونکا دیا

انجینئر بخت سید یوسفزئی

چین کی فوجی قیادت میں حالیہ ہلچل نے نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا میں سیاسی اور دفاعی حلقوں کو چونکا دیا ہے۔ دو انتہائی طاقتور جنرلز، ژانگ یو شیا اور لیو ژن لی کے خلاف تادیبی تحقیقات کی تصدیق نے یہ واضح کر دیا ہے کہ چینی فوج بھی اس احتسابی عمل سے مستثنیٰ نہیں جس کا آغاز صدر شی جن پنگ نے برسوں پہلے کیا تھا۔

ژانگ یو شیا چین کی سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین ہیں اور انہیں صدر شی جن پنگ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ وہ چینی فوج کے ان چند افسران میں شامل ہیں جن کا تعلق انقلابی نسل سے ہے اور جن کے والدین نے کمیونسٹ انقلاب میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسی وجہ سے ان کی گرفتاری یا تحقیقات کو غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

لیو ژن لی بھی کوئی عام افسر نہیں بلکہ سینٹرل ملٹری کمیشن کے جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں، یعنی عملی طور پر پورے چینی فوجی نظام کی منصوبہ بندی اور آپریشنز انہی کے زیر نگرانی ہوتے ہیں۔ ایسے عہدے پر فائز شخصیت کا تفتیش کی زد میں آنا خود چین کے اندر بھی ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔

چینی دفاعی وزارت نے رسمی بیان میں کہا کہ دونوں جنرلز پر “سنگین تادیبی اور قانونی خلاف ورزیوں” کا شبہ ہے۔ چین میں یہ جملہ عام طور پر کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال یا پارٹی اصولوں سے انحراف کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس زبان میں براہ راست الزام کم ہی لگایا جاتا ہے، مگر اس کا مطلب ہمیشہ بہت سنگین ہوتا ہے۔

گزشتہ ایک دہائی سے صدر شی جن پنگ نے کرپشن کے خلاف مہم کو اپنی سیاست کا مرکزی ستون بنا رکھا ہے۔ ابتدا میں یہ مہم بیوروکریسی اور کاروباری طبقے تک محدود تھی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس نے فوج، عدلیہ اور پارٹی کے اعلیٰ حلقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

چینی فوج میں اس سے پہلے بھی کئی اعلیٰ افسران کو ہٹایا گیا، مگر ژانگ یو شیا جیسے طاقتور اور بااثر جنرل پر کارروائی ایک نئی مثال ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیغام ہے کہ اب کوئی بھی شخصیت اتنی طاقتور نہیں کہ احتساب سے بچ سکے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ تحقیقات صرف کرپشن تک محدود نہیں بلکہ ممکنہ طور پر اندرونی سیاسی صف بندی سے بھی جڑی ہو سکتی ہیں۔ چین میں طاقت کا اصل مرکز فوج ہے، اور جو شخص فوج پر کنٹرول رکھتا ہے وہ درحقیقت پورے نظام پر گرفت رکھتا ہے۔

شی جن پنگ نے اقتدار میں آنے کے بعد فوج کی تنظیم نو کی، کئی پرانے کمانڈ ڈھانچوں کو ختم کیا اور براہ راست اپنے وفادار افسران کو کلیدی عہدوں پر تعینات کیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ فوج کسی بھی صورت پارٹی سے آزاد طاقت نہ بن سکے۔

ان تحقیقات کو اسی پالیسی کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے۔ اگر ژانگ اور لیو جیسے لوگ بھی زد میں آ سکتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شی جن پنگ اپنی گرفت مزید مضبوط کر رہے ہیں اور کسی ممکنہ اختلاف کو جڑ سے ختم کرنا چاہتے ہیں۔

چینی معاشرے میں اس خبر کو سرکاری میڈیا نے محدود انداز میں پیش کیا، مگر سوشل میڈیا پر اس پر خاصی بحث ہو رہی ہے۔ عوام کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ کیا واقعی یہ کرپشن کا معاملہ ہے یا پھر طاقت کی اندرونی کشمکش۔

کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق چین میں کرپشن صرف مالی نہیں بلکہ ادارہ جاتی مسئلہ بھی ہے، جہاں عہدہ طاقت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور طاقت ذاتی مفادات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ فوج جیسا خفیہ ادارہ اس حوالے سے ہمیشہ مشکوک سمجھا جاتا رہا ہے۔

دوسری طرف کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ شی جن پنگ کے ممکنہ طویل المدتی اقتدار کی تیاری کا حصہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں کوئی ایسا فوجی دھڑا نہ ہو جو ان کے فیصلوں کو چیلنج کر سکے۔

عالمی سطح پر بھی اس خبر کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ چین اس وقت تائیوان، جنوبی بحیرہ چین اور امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں فوجی قیادت میں بحران ایک حساس معاملہ بن جاتا ہے۔

امریکہ اور یورپی ممالک کے دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلیاں وقتی طور پر چین کی فوجی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہیں، مگر طویل مدت میں یہ شی جن پنگ کو مزید طاقت دے سکتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ژانگ یو شیا کو ماضی میں جدید اسلحہ سازی اور میزائل پروگرام کا نگران سمجھا جاتا تھا۔ ان پر تحقیقات کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چین کے اسٹریٹجک پروگراموں میں بھی اندرونی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

لیو ژن لی کا معاملہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ عملی جنگی منصوبہ بندی کے ذمہ دار تھے۔ اگر وہ واقعی ہٹائے جاتے ہیں تو فوجی ڈھانچے میں نئے چہروں کو آگے لایا جائے گا جو ممکنہ طور پر زیادہ وفادار ہوں گے۔

چین میں عام شہری کے لیے یہ سب کچھ کسی حد تک دور کی بات لگ سکتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ فوجی قیادت میں تبدیلی ملک کی مجموعی سمت پر اثر ڈالتی ہے۔ دفاعی بجٹ، خارجہ پالیسی اور علاقائی حکمت عملی سب اسی قیادت سے جڑی ہوتی ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ چین میں عدالتی عمل شفاف نہیں ہوتا۔ جو شخص ایک بار تادیبی تحقیقات میں آ جائے، اس کے لیے واپسی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر ایسے کیسز یا تو طویل قید پر ختم ہوتے ہیں یا سیاسی طور پر خاموشی پر۔

اس صورتحال میں ژانگ اور لیو کا مستقبل بھی دھندلا نظر آتا ہے۔ سرکاری بیان میں اگرچہ کچھ بھی حتمی نہیں کہا گیا، مگر چینی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ اس مرحلے کے بعد بہت کم لوگ دوبارہ منظر عام پر آتے ہیں۔

سیاسی طور پر یہ خبر شی جن پنگ کے لیے فائدہ مند سمجھی جا رہی ہے۔ وہ پہلے ہی پارٹی کے اندر بے مثال اختیارات حاصل کر چکے ہیں، اور اب فوج میں بھی کسی ممکنہ طاقت کے مرکز کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ مسلسل خوف اور احتساب کا ماحول اداروں کو کمزور بھی کر سکتا ہے، کیونکہ افسران فیصلے لینے سے گھبرانے لگتے ہیں۔ مگر چین جیسے نظام میں استحکام کا مطلب اکثر سخت کنٹرول ہی سمجھا جاتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ واقعہ صرف دو جنرلز کی تفتیش نہیں بلکہ چین کے پورے سیاسی اور عسکری نظام کی سمت کی علامت ہے۔ یہ پیغام واضح ہے کہ طاقت اب مکمل طور پر ایک مرکز میں سمٹ رہی ہے۔

دنیا کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ آیا ایک مضبوط کنٹرول والا چین زیادہ جارحانہ ہوگا یا زیادہ محتاط۔ مگر ایک بات طے ہے کہ شی جن پنگ کے دور میں چین کی فوج اب پہلے سے کہیں زیادہ سیاسی نظم و ضبط کے دائرے میں آ چکی ہے۔