راولپنڈی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکدم اضافے کے ساتھ بین الصوبائی، بین الاضلاعی اور انٹر سٹی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی ہوشربا اضافہ کردیا گیا ٹرانسپورٹروں نے مسافروں سے نئی شرح کے مطابق کرائے وصول کرنا شروع کردیئے جبکہ مقامی آمدورفت کے لئے استعمال ہونے والی بائیکیا سروس اور رکشہ ڈرائیوروں نے بھی کرائے دوگنا کر دئیے پٹرول 458 اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر ہونے کے باعث مختلف نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے
راولپنڈی سے لاہور کا کرایہ 2480 سے 3100 روپے کردیا اسی طرح راولپنڈی سے اوکاڑہ کا کرایہ 2700 روپے سے بڑھا کر 3750 روپے، راولپنڈی سے بہاولنگر کا کرایہ 3000 سے بڑھ کر 4200 روپے، راولپنڈی سے پشاور کا کرایہ 1000 سے بڑھا کر 1300 روپے، راولپنڈی سے کراچی کا کرایہ 8950 سے 10450 روپے، راولپنڈی سے ڈی آئی خان کا کرایہ 3200 سے بڑھا کر 4000 روپے، راولپنڈی سے گجرات کا کرایہ 750 سے 1100، راولپنڈی سے چکوال کا کرایہ 550 سے بڑھا کر 750 روپے، راولپنڈی سے گوجرانوالہ کا کرایہ 1150 سے 1500 روپے اور راولپنڈی سے سیالکوٹ
کا کرایہ 1400 سے 1900 کردیا گیا اسی طرح بائیکیا سروس یا رکشہ ڈرائیوروں نے بھی 3/4 کلومیٹر کی مسافت کا کم سے کم کرایہ 300 روپے مقرر کردیا ٹرانسپورٹروں کا موقف ہے کہ معاملہ صرف پٹرول تک محدود نہیں رہتا بلکہ اسی تناسب سے موبائل آئل، گاڑیوں کے پارٹس کی قیمتیں اور مینٹی نینس بھی بڑھ جاتی ہیں اگر ایک ٹرانسپورٹر کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کرتا ہے تو بدلے میں اس کے گھر کا چولہا تو جلنا چاہئے جبکہ بائیکیا سروس والوں کا کہنا ہے ہم دیہاڑی دار لوگ تھے جو سارا دن محنت کرتے ہیں پہلے ایک ہزار روپے کے پٹرول پر 700 یا 800 روپے بچالیتے تھے
اب 2 ہزار کا پٹرول ڈلوانے کے بعد بچت کا تصور ہی ختم ہورہا ہے جبکہ شہریوں کا موقف ہے کہ پٹرول 100 روپے لیٹر ہو یا 1 ہزار روپے لیٹر ہوجائے ہر آمدورفت کے ساتھ اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ کی خریداری کی صورت میں ہر طرح سے اس کی ادائیگی عام آدمی نے ہی کرنی ہے دکاندار یا کاروباری لوگوں کی شرح منافع کم نہیں ہوتی جبکہ سارا ملبہ تنخواہ دار یا غریب دیہاڑی دار پر گرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔