لاریب زہرہ عباسی
جس طرح رنگ و بو کے بغیر پھول کچھ بھی نہیں، اسی طرح عورت کے بغیر کائنات ادھوری ہے۔ عورت روشنی کی وہ کرن ہے جس سے زندگی کی راہ منور ہوتی ہے۔ عورت محض ایک وجود یا رشتہ نہیں، بلکہ تہذیب کی بنیاد ہے۔ ماں ہو تو محبت کا سر چشمہ، بہن ہو تو وفا کا پیکر، شریکِ حیات ہو تو بہترین ہم سفر اور بیٹی ہو تو خوشبو۔
اگر ہم فطرت پر نظر ڈالیں تو محسوس ہو گا کہ زندگی کا پہلا رنگ عورت ہے۔ اسی سے در و دیوار گھر میں بدلتے ہیں۔ اس کے بغیر ہر رنگ، ہر موسم اور ہر خواب بے رنگ ہے۔ عورت کے احساس اور لمس میں یہ فطری کشش ہے کہ وہ بے نور لمحات کو بھی رنگین بنا دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی اور خوش حالی میں عورت کا کردار کلیدی رہا ہے۔ اس کے بغیر آگے بڑھنے کا خواب نامکمل ہے۔ زمانۂ قدیم سے لے کر دورِ جدید تک، عورت زندگی کے ہر شعبے میں پیش پیش رہی ہے۔ چاہے وہ علم و فکر ہو یا طب و سماج، سیاست ہو یا کھیل، سائنس ہو یا فنونِ لطیفہ، اس نے ہر میدان کو سر کیا اور ایک نئے دور کو خوش آمدید کہا۔
دینِ اسلام بھی عورت کو بھر پور آزادی اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ دورِ جہالت میں جہاں بیٹی کو زندہ در گور کر دیا جاتا تھا، دینِ اسلام نے اسی وجود کو رحمت قرار دیا۔ اسے زندگی جینے کا مکمل حق دیا۔ اسے معاشرے میں تمام حقوق فراہم کیے۔ تاکہ وہ بھی زندگی کی بہاروں سے لطف اندوز ہو سکے۔
عورت ایک فنکار بھی ہے اور مزاحمت کار بھی۔ وہ زندگی کے سنگیت کی خوب صورت دھن ہے۔ ایک ایسی دھن جو ویرانے کو آباد کرے، درد کو راحت میں ڈھالے اور خاموشی کو دلفریب موسیقی سے آشنا کرے۔
مگر ساتھ ہی عورت کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ کبھی انکار پر اس کی جان لے لی جاتی ہے، تو کبھی اقرار پر اسے ستایا جاتا ہے۔ معاشرے کو یہ سمجھنا ہو گا کہ عورت کسی بے جان شے کا نام نہیں، جو اس کے اشاروں کی محتاج ہو۔ وہ زندگی کے فیصلے کا حق رکھتی ہے۔ اور عورت کو اس کے فیصلوں کا حق دیے بنا، کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ فقط اتنا کہوں گی کہ عورت ایک ترقی یافتہ معاشرے کی عمارت کا بنیادی ستون ہے، جسے کبھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ کیوں کہ ‘وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ’۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.