نوجوان اہل علم سے قومی تعمیر تک، ہائر ایجوکیشن کمیشن، نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن اور آئی پی ایف پی پروگرام کا کردار

ڈاکٹر احسن اقبال

معزز قارئین، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں” سورۃ الزمر: (9)یہ آیت نہ صرف علم کی فضیلت کو واضح کرتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ قوموں کی ترقی کا اصل انحصار اہل علم پر ہوتا ہے۔ وہ معاشرے جو اپنے تعلیم یافتہ افراد کو عزت، مواقع اور ذمہ داریاں دیتے ہیں، وہی تاریخ میں ترقی یافتہ قوموں کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔پاکستان بھی ایک ایسے ہی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اس کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان اور تعلیم یافتہ افراد ہیں۔ ہر سال سینکڑوں پی ایچ ڈی اسکالرز اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو برسوں کی محنت، تحقیق اور قربانیوں کے بعد اس مقام تک پہنچتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کی صلاحیتوں کو قومی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے مؤثر مواقع فراہم کر رہے ہیں؟اسی سوال کا ایک عملی جواب ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے انٹرِم پلیسمنٹ آف فریش پی ایچ ڈیز (IPFP) پروگرام کی صورت میں دیا ہے۔تعلیم سے خدمت تک کا سفرتعلیم کا اصل مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ معاشرے کی بہتری میں کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے” (بخاری)یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم کی اصل قدر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اسے آگے منتقل کیا جائے۔ یہی فلسفہ آئی پی ایف پی پروگرام کی روح میں نظر آتا ہے جہاں نوجوان پی ایچ ڈی اسکالرز کو جامعات میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دینے کا موقع دیا جاتا ہے۔یہ پروگرام دراصل تعلیم اور عملی خدمت کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کا تربیتی کردارنیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن اس پروگرام کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ منتخب اسکالرز کو جامعات میں بھیجنے سے پہلے انہیں جدید تدریسی مہارتوں، تحقیق کی نگرانی، نصاب سازی، تعلیمی اخلاقیات اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی تربیت دی جاتی ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک اچھا استاد صرف اپنے مضمون کا ماہر نہیں ہوتا بلکہ ایک اچھا رہنما، تربیت کار اور کردار ساز بھی ہوتا ہے۔مشہور مسلم مفکر امام غزالیؒ کا قول ہے:”استاد صرف علم نہیں دیتا بلکہ کردار بھی بناتا ہے”یہی سوچ دراصل ایسے پروگراموں کی اصل بنیاد ہے۔نوجوان اساتذہ اور تعلیمی ماحول میں مثبت تبدیلیجب نوجوان اساتذہ جامعات میں شامل ہوتے ہیں تو وہ نئی سوچ، جدید تحقیق اور عالمی رجحانات ساتھ لاتے ہیں۔ ان کی موجودگی طلبہ میں تحقیق کا شوق پیدا کرتی ہے اور وہ طلبہ کے لیے عملی رول ماڈل بن جاتے ہیں۔خصوصاً چھوٹے شہروں اور کم وسائل والی جامعات میں ایسے نوجوان اساتذہ کی تعیناتی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس سے نہ صرف تدریسی معیار بہتر ہوتا ہے بلکہ تحقیق کا ماحول بھی مضبوط ہوتا ہے۔قومی علمی سرمایہ محفوظ بنانے کی ضرورتایک پی ایچ ڈی اسکالر کی تیاری میں ریاست کے وسائل، اساتذہ کی محنت اور طالب علم کی زندگی کے کئی سال شامل ہوتے ہیں۔ اگر ایسے افراد کو مواقع نہ ملیں تو یہ صرف فرد کا نہیں بلکہ قومی نقصان بھی ہوتا ہے۔آئی پی ایف پی جیسے پروگرام اس قومی سرمایہ کو محفوظ بناتے ہیں۔ یہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد تعلیم، تحقیق اور جدت کے میدان میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔مشہور مفکر علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا:”افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیرہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”یہی فلسفہ ایسے اقدامات کی اصل روح ہے۔تعلیمی انصاف اور مواقع کی منصفانہ تقسیماس پروگرام کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کو مختلف جامعات میں تعینات کیا جاتا ہے جس سے تعلیمی مواقع کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔یہ حکمت عملی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ باصلاحیت طلبہ چاہے وہ کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتے ہوں، انہیں معیاری اساتذہ کی رہنمائی حاصل ہو۔ حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب علم چند شہروں تک محدود نہ رہے بلکہ پورے ملک میں پھیلے۔مستقبل کے لیے ضروری اقداماتاگرچہ یہ پروگرام ایک کامیاب اقدام ہے، مگر اس کے اثرات کو مزید بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ:مزید اسکالرز کو شامل کیا جائے۔مستقل ملازمت کے مواقع بڑھائے جائیں۔ جامعات اور صنعت کے درمیان روابط مضبوط کیے جائیں اور نوجوان محققین کے لیے تحقیق کے مزید مواقع پیدا کیے جائیں۔ تعلیم کے شعبے میں تسلسل ہی اصل کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔ذاتی احساس اور قومی خدمت کا جذبہایسے مواقع دراصل نوجوان اسکالرز پر اعتماد کا اظہار ہوتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست اپنے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہتی ہے۔ذاتی طور پر میرے لیے بھی یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ مجھے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے آئی پی ایف پی پروگرام کے تحت شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن، فیکلٹی آف ہیومینیٹیز اینڈ سوشل سائنسز، راولپنڈی ویمن یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات انجام دیتے ہوئے اپنی علمی ذمہ داریاں ادا کرنے اور اپنے معاشرے کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔ یہ صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو علم، تحقیق اور کردار کی بنیادوں پر مضبوط بنائیں۔نتیجہپاکستان کی اصل طاقت اس کے نوجوان اور تعلیم یافتہ افراد ہیں۔ اگر انہیں درست سمت، مناسب مواقع اور اعتماد فراہم کیا جائے تو وہ ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ہائر ایجوکیشن کمیشن اور نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر درست پالیسی اور مخلص قیادت موجود ہو تو نوجوان صلاحیتوں کو قومی ترقی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ قوموں کی اصل ترقی عمارتوں سے نہیں بلکہ اساتذہ سے ہوتی ہے، اور مضبوط قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنے اہل علم کو آگے بڑھنے کا موقع دیتی ہیں۔


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.