میرپور تعلیمی بورڈ کرپشن اسکینڈل: چیئرمین کے خلاف کارروائی کی سفارش

میرپور (نمائندہ خصوصی) — چوہدری انوارالحق کے قریبی ساتھی اور تعلیمی بورڈ میرپور کے چیئرمین چوہدری نذر حسین ایک اعلیٰ سطحی انکوائری میں سنگین کرپشن کے الزامات میں ملوث پائے گئے ہیں، جس کے بعد حکومت کو ان کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کر دی گئی ہے۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق چیئرمین پر الزام ہے کہ انہوں نے امتحانی پرچوں کی چیکنگ کے ٹھیکے غیر قانونی طریقے سے من پسند افراد کو دے کر کک بیکس وصول کیے۔ مزید برآں، بورڈ ملازمین کی تنظیم کے ایک غیر قانونی صدر کے ساتھ مل کر کرپشن کے مختلف معاملات میں ملوث رہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں سے غیر قانونی کٹوتیاں کر کے مخصوص ٹھیکہ داروں کو فائدہ پہنچایا گیا، جبکہ جعلی بلات، جعلی ٹی اے/ڈی اے اور غیر قانونی بھرتیوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
مزید الزامات کے مطابق چیئرمین نے اپنے بچوں اور قریبی رشتہ داروں کو جعلسازی کے ذریعے امتحانات میں کامیاب کروایا، جس کے ٹھوس شواہد بھی انکوائری رپورٹ کا حصہ ہیں۔
دریں اثنا، محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن آزاد کشمیر نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کے لیے سرکلر جاری کر دیا ہے اور نئی پالیسی کے نفاذ کی ہدایات بھی دی ہیں۔
واضح رہے کہ چوہدری نذر حسین اس سے قبل بھی توہین عدالت کیس سمیت مختلف انکوائریوں میں کرپشن الزامات کا سامنا کر چکے ہیں، تاہم مبینہ سیاسی و بیوروکریٹک اثر و رسوخ کے باعث ہر بار بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔
ذرائع کے مطابق اس بار شواہد مضبوط ہونے کے باعث ان کے خلاف عملی کارروائی کا امکان بڑھ گیا