ممکنہ تخریب کاری یا کچھ اور راولپنڈی میں ٹرین کا بڑا حادثہ ٹل گیا

راولپنڈی: پنڈی تا لاہور ریلوے ٹریک پر ممکنہ بڑے حادثے سے بال بال بچاؤ
راولپنڈی — پنڈی سے لاہور جانے والی ریلوے لائن پر سہالہ سے مانکیالہ کے درمیان ریلوے ٹریک کا ایک حصہ ٹوٹ جانے کا انکشاف ہوا ہے، تاہم ٹرین ڈرائیور کی بروقت نشاندہی کے باعث ایک بڑا حادثہ ہوتے ہوتے ٹل گیا۔
ذرائع کے مطابق ریلوے ٹریک کے کلو میٹر نمبر 46 سے 102 کے درمیانی حصے میں پٹڑی کا ایک حصہ اچانک ٹوٹ گیا تھا۔ اسی دوران گزرنے والی ٹرین کے ڈرائیور نے ٹریک کی غیر معمولی حالت کو محسوس کرتے ہوئے فوری طور پر ٹرین کی رفتار کم کی اور متعلقہ حکام کو اطلاع دی، جس سے مسافروں سے بھری ٹرین کسی بڑے حادثے سے محفوظ رہی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ مبینہ طور پر محکمہ ریلوے کے PWI (Permanent Way Inspector) ڈیپارٹمنٹ کی غفلت یا نااہلی کا نتیجہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ٹریک کی بروقت جانچ پڑتال نہ ہونے کے باعث یہ خرابی سامنے آئی۔
واقعے کے فوری بعد ریلوے حکام اور تکنیکی عملہ موقع پر پہنچ گیا اور متاثرہ ٹریک کی مرمت کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دیا گیا۔ اس دوران ٹرینوں کی آمدورفت کو عارضی طور پر محدود کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب اعلیٰ حکام نے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس امر کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ٹریک ٹوٹنے میں کسی قسم کی تخریب کاری کا عنصر شامل تو نہیں۔ سیکیورٹی اداروں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
ریلوے مسافروں نے ٹرین ڈرائیور کی پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت اقدام کو سراہتے ہوئے اسے قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ریلوے ٹریک کی باقاعدہ اور مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔
مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے تعین کے بعد قانونی کارروائی متوقع ہے۔


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.