علم، جدت اور پائیداری کا سنگم: نمل بزنس کانفرنس 2026 میں آر ڈبلیو یو کے محققین کی نمایاں علمی پیش رفت

ڈاکٹر محمد احسن اقبال

ایک ایسے عہد میں جہاں ٹیکنالوجی، جدت اور پائیداری باہم مربوط ہو کر عالمی ترقی کے نئے زاویے متعین کر رہے ہیں، علمی پلیٹ فارمز کی اہمیت غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔ اسی تناظر میں نمل بزنس کانفرنس 2026، جو 3 تا 4 اپریل کو Namal University میں منعقد ہوئی، ایک مؤثر اور بامقصد علمی فورم کے طور پر سامنے آئی۔ اس کانفرنس نے ملک بھر سے آئے ہوئے اسکالرز، محققین اور ماہرین کو “سمارٹ بزنس ٹرانسفارمیشن: ٹیکنالوجی، جدت اور پائیداری کے امتزاج” جیسے عصرِ حاضر کے اہم موضوع پر سنجیدہ مکالمے کا موقع فراہم کیا۔

اس قومی سطح کے علمی اجتماع میں Rawalpindi Women University کے اسکالرز نے اپنی فعال اور معیاری شرکت کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا۔ بطور اسسٹنٹ پروفیسر، مجھے فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا، جہاں میری سینئر کولیگ ڈاکٹر حنا فیاض بھی ہمراہ تھیں۔ ہم نے اپنے ایم ایس اور پی ایچ ڈی اسکالرز کے ساتھ شرکت کی، جنہوں نے اعلیٰ معیار کی تحقیقی پیشکشوں کے ذریعے ادارے کی علمی روایت کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔

اس کامیابی میں ڈاکٹر شہزاد حسین (ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ) اور ڈاکٹر حنا فیاض کی مدبرانہ قیادت اور مسلسل علمی رہنمائی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی سرپرستی نے طلبہ کو نہ صرف تحقیقی میدان میں رہنمائی فراہم کی بلکہ انہیں قومی سطح کے علمی پلیٹ فارمز پر مؤثر نمائندگی کے قابل بھی بنایا۔کانفرنس کی ساخت اپنی وسعت اور علمی تنوع کے اعتبار سے نہایت متاثر کن تھی، جس میں پانچ موضوعاتی ٹریکس، گیارہ سیشنز اور 89 تحقیقی مقالات شامل تھے۔ فنانس، مارکیٹنگ، ایگری بزنس، ٹیکنالوجی اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسے متنوع شعبہ جات میں ہونے والی علمی گفتگو نے اس کانفرنس کو ایک جامع اور بین الشعبہ جاتی پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا۔

Rawalpindi Women University کے اسکالرز نے بھی عصری اور اہم موضوعات پر تحقیق پیش کی۔ عائشہ صدیقہ نے پبلک ڈیٹ اور قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے باہمی تعلق پر بصیرت افروز تجزیہ پیش کیا، جبکہ سجیلا جاوید نے ایشیائی معیشتوں میں گرین فنانس اور ماحولیاتی پائیداری کے درمیان غیر خطی تعلقات کا جائزہ لیا۔ انعم مقبول نے مالی شمولیت اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کو عالمی ماحولیاتی نتائج کے تناظر میں پیش کیا۔مزید برآں، سائرہ مکیٹ نے یورپ میں مالیاتی ٹیکنالوجیز کے بدلتے ہوئے کردار اور ان کے پائیداری پر اثرات کا تجزیہ کیا، جبکہ کائنات سید نے گرین ٹریننگ اور ماحولیاتی کارکردگی کے درمیان تعلق کو محرکاتی عوامل کے ذریعے واضح کیا۔ مصباح ملک نے مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی اثرات پر بین الاقوامی شواہد پیش کیے۔ اسی طرح محترمہ آصفہ نے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں گرین انٹرپرینیورشپ اور سپلائی چین مینجمنٹ کے کردار کو اجاگر کیا۔

یہ تمام تحقیقی کاوشیں نہ صرف اعلیٰ علمی معیار کی عکاس تھیں بلکہ عالمی ترجیحات—خصوصاً پائیدار ترقی اور ٹیکنالوجی پر مبنی معاشی نظام—سے ہم آہنگ بھی تھیں۔ ان مقالہ جات کو کانفرنس کی آفیشل ابسٹریکٹ پروسیڈنگز میں شامل کیا جانا Rawalpindi Women University کے لیے ایک قابلِ قدر سنگِ میل ہے، جو اس کی ابھرتی ہوئی علمی حیثیت کا مظہر ہے۔یہ کانفرنس محض انفرادی کامیابیوں تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر ادارہ جاتی وژن کی عکاسی کرتی ہے، جس میں تحقیق، جدت اور عملی مسائل کے حل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ایسے علمی فورمز نوجوان محققین کو نہ صرف فکری وسعت فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں عالمی تناظر میں اپنی تحقیق کو بہتر بنانے کا موقع بھی دیتے ہیں۔

کانفرنس کی کامیاب تنظیم میں سائنٹیفک کمیٹی کا کردار نہایت اہم رہا، جس کی قیادت ڈاکٹر ایم نجم الاسلام نے کی، جبکہ ڈاکٹر محمد احمد اور ڈاکٹر سجاد الرحمن کی حکمت عملی نے اس ایونٹ کو مؤثر انداز میں ہم آہنگ رکھا۔ کانفرنس چیئر ڈاکٹر ہاشم ضمیر اور منتظمین کی مشترکہ کاوشوں نے اس علمی اجتماع کو ایک مثالی کامیابی میں تبدیل کیا۔کلیدی مقررین میں ممتاز ماہرینِ تعلیم شامل تھے، جن میں پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ ظفر شیخ، پروفیسر ڈاکٹر عدیل ظفر، پروفیسر ڈاکٹر عمران جاوید، پروفیسر ڈاکٹر سید ذوالفقار علی شاہ اور پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور شامل ہیں۔ بالخصوص Iqrar Ahmad Khan (چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن) کی بطور چیف کی نوٹ اسپیکر شرکت نے اس کانفرنس کے وقار میں نمایاں اضافہ کیا

یہ کانفرنس بلاشب نمل یونیورسٹی

کے لیے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جس پر ادارہ بجا طور پر مبارکباد کا مستحق ہے۔

اختتاماً، میں اپنی ایم ایس اسکالر محترمہ حفصہ اقبال کی علمی کاوشوں کو خصوصی طور پر سراہنا چاہوں گا، جنہوں نے اس تحقیقی سفر میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ ڈیٹا کلیکشن، تصوراتی فریم ورک کی تشکیل اور اس تحریر کی تکمیل میں ان کی محنت، لگن اور فکری بصیرت قابلِ تحسین ہے۔ بطور استاد اور معاون نگران، مجھے ان کی کامیابیوں پر فخر ہے اور میں ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔