صدر آزادکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری انتقال کر گئے نماز جنازہ میرپور میں ادا کیا جائے گا

آزاد جموں و کشمیر آج ایک سینئر، مدبر اور نظریاتی سیاست دان سے محروم ہو گیا۔ صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال سے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان کی سیاست میں بھی ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی پیدائش آزاد کشمیر کے ضلع میرپور کے تاریخی اور مذہبی اہمیت کے حامل علاقے کھڑی شریف میں ہوئی۔ وہ معروف سیاسی و سماجی شخصیت چوہدری نور حسین کے صاحبزادے تھے۔ ان کا تعلق ایک سیاسی اور عوامی خدمت کے حامل خاندان سے تھا۔

انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ کا رخ کیا، جہاں سے قانون (بریسٹری) کی تعلیم حاصل کی۔ قانونی میدان میں مہارت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور اپنی قانونی بصیرت کو عوامی خدمت اور کشمیر کاز کے لیے استعمال کیا۔

مرحوم نے عملی سیاست کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی سے کیا اور اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے آزاد کشمیر اور قومی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ دو مرتبہ آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور اس دوران عوامی حقوق، ریاستی خودمختاری اور جمہوری اقدار کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ، یورپی پارلیمنٹ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مؤثر انداز میں اجاگر کیا اور کشمیری عوام کے ایک مضبوط ترجمان کے طور پر پہچانے گئے۔

بعد ازاں وہ صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر کے منصب پر فائز ہوئے، جہاں انہوں نے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ریاستی اداروں کے استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے خدمات انجام دیں۔

مرحوم کی نمازِ جنازہ میرپور میں ادا کی جائے گی، جہاں سیاسی، سماجی، مذہبی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔ نمازِ جنازہ کے بعد تدفین آبائی علاقے میں عمل میں لائی جائے گی۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا انتقال آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب بند ہونے کے مترادف ہے۔ ان کی خدمات، جدوجہد اور کشمیر کاز کے لیے کردار کو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔