جمیل احمد
آج قلم کانپ رہا تھا٫ اسکی وجہ یخ بستہ رات تھی یا سانحہ گل پلازہ کراچی، جہاں آگ میں جلتے ہوئے زندہ لوگ تھے۔ چند ماہ سے مضامین تحریر نہ کرنے کی وجہ کچھ بھی ہو مگر آج کی تحریر کی وجہ زندہ جلی ہوئی لاشیں بلکہ ان کی ہڈیاں ہیں۔ حادثے کے پانچ روز گزر جانے کے بعد شہداء کی ہڈیوں یا ڈھانچوں کی تعداد 71 تک پہنچ چکی ہے جو اب تک ملبے سے مل چکی ہیں۔
رہی بات اب تک گمشدہ لوگوں کی، تقریباً 77 لوگوں کی تلاش ابھی جاری ہے۔ ان 71 ڈھانچوں یا لاشوں میں سے 22 لاشوں کی شناخت ڈی این اے رپورٹ کی مدد سے ہو چکی ہے۔ یہ یقیناً بہت بڑا سانحہ ہے اور ان کے ورثاء کے لئیے ان لوگوں کا نعم البدل ناممکن ہے۔ تاہم یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کراچی بلکہ پاکستان میں رہنے والے اس طرح کے واقعات پہلے بھی بگت چکے ہیں۔
تھوڑا سا ماضی میں لے جانے کی جسارت کر رہا ہوں! کراچی میں 12 ستمبر 2012 والے دن کچھ ایسا ہی ایک واقعہ رونما ہوا۔ لیاقت آباد کراچی میں ایک گارمنٹ فیکٹری میں آگ لگ جانے کا حادثہ ہوا، جس میں کم و بیش 314 خواتین زندہ جل کر خاکستر ہو گئیں۔ بیشتر کے مرنے کی وجہ آکسیجن کی کمی اور سفوکیشن بتائی گئی۔
12 ستمبر 2012 میں کسی نے اس طرح آ کر احتجاج کیوں نہیں کیا؟ 314 مسخ شدہ لاشوں کے وارثین کیوں نہیں اپنا حق لے سکے؟ اپنے دکھ کی آواز اس قدر کیوں نہ اٹھا سکے؟ سوال تو یہ بھی بنتا ہے۔ کیا اس وقت حکمران فرعون تھے؟ جب کہ اس وقت صوبائی اور وفاقی حکومت کی باگ دوڑ ایک ہی پارٹی کے پاس تھی اور شہر کراچی کسی کی “ہیلو” کی آواز پر کانپنا شروع کر دیتا تھا۔ اس وقت بھی کمیشن کی تجویز دی گئی تھی۔
البتہ کمیشن کی رپورٹ آج بھی خاموش ہے۔ مگر بدقسمتی سے ان کے ورثاء کی آہوں نے کراچی کے “ہیلو” کو آہ و بکا میں بدل دیا، اور اب یہ “ہیلو” کی آواز فقط لندن تک ہی مقید ہے۔۔۔۔
آج سوشل میڈیا سے اٹھتی ہوئی سچی جھوٹی خبریں اور پینترے بدلتے ہوئے شہر کراچی اور صوبے کے حکمران، دونوں ہی حد سے تجاوز کر رہے ہیں ۔
بقول فیض احمد فیض کہ !
جس دیس کی کورٹ کچہری میں
انصاف ٹکوں پر بکتا ہو
جس دیس کا منشی قاضی بھی
مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو
جس دیس میں جاں کے رکھوالے
خود جانیں لیں معصوموں کی
اس دیس کے ہر اک لیڈر پر
سوال اٹھانا واجب ہے
اس دیس کے ہر اک حاکم کو
سولی پہ چڑھانا واجب ہے۔
ایک انسان کی جان کا نقصان تمام انسانیت کی جان کے نقصان کے مترادف ہے اور عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے بقول “دجلہ کے کنارے کتا بھی مرے تو ذمہ دار عمر ہوگا” تو آپ مجھے بتائیے یہ تو 77 لوگوں کی جان کا نقصان ہے اس اسلامی جمہوریہ پاکستان کے موجودہ عمر کہاں ہیں جو اسے اپنا قصور مانیں۔
آپ حکمران ہیں تو ثابت کریں، دستِ شفقت رکھیں، متاثرین اور ان کے اہل و عیال کے ساتھ اس سانحے پر ان کے ساتھ دلجوئی کیجئے، ان کے دکھوں کا مداوہ کرنے کی کوشش کریں، مرنے والوں کو حاکم وقت اپنے بچوں کی طرح سمجھیں۔
زرداری صاحب٫ یہ بھی کسی کے بلاول تھے شہباز شریف صاحب٫ یہ بھی کسی کے حمزہ شریف تھے اور تمام سیاسی پارٹی کے رہنما خواہ وہ کسی حکومتی عہدے پر ہوں یا نہ ہوں ان کا فرض بنتا ہے کہ اپنی اولاد کو زندہ پا کر اللّہ کا شکر ادا کریں اور ان شہداء کے ورثاء کی داد رسی کریں۔ شنید اسکے کہ آپ کی ہیلو بھی آپ کی آہ و بکا میں نہ بدل جائے، آخر آپ کوئی بخشی ہوئی روح تو نہیں ہیں!
دنیا میں جل کر مرنے والوں کی ریشو یا شرح پاکستان میں جل کر مرنے والوں کی ریشو سے بہت کم ہے (رپورٹ 2025)۔ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ میں سے 1308 لوگ جل کر مرتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں دیکھا جائے تو ایک لاکھ میں 110 لوگوں کے جل کر مرنے کے سالانہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
سانحہ گل پلازہ کے بعد کچھ ہوشربا انکشافات سامنے آئے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے جب کراچی کے تین اضلاع پر سروے کیا گیا تو پتہ چلا کہ 90 فیصد عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات سرے سے موجود ہی نہیں ہیں، بیشتر عمارتوں میں ہنگامی اخراج کا راستہ موجود نہیں، کوئی ایس او پی تو دور کی بات بہت سی عمارتوں میں تو فائر برگریڈ یا فائر ایکسٹینگیشرز سرے سے موجود ہی نہیں، چند عمارتوں میں فائر ایکسٹینگیشرز موجود ہیں بھی تو وہاں کہ لوگ اس کے استعمال سے ہی ناواقف ہیں۔
70 سالہ آزادی کے بعد ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے کہ انفرادی طور پر تو ہم بہت چالاک اور سمجھدار ہیں تاہم من حیث القوم ابھی ہمیں بہت کچھ سیکھنا ہے۔ غربت اور لالچ کے درمیان پستی ہوئی مڈل کلاس، پلکوں سے پیسے بٹوڑتے ہوئے اشرافیہ، بھوک سے بلکتے اور ناخن سے اسٹیل کھرچتےغرباء اپنی دھن میں ہی لگے ہوئے ہیں۔ ان سب کو کوئی فکر نہیں کہ میرے کسی عمل سے کسی اور کا کیا جاتا ہے، کسی کو پرواہ ہی نہیں۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی سچی خبروں سے کسی کی نیک نامی اور بدنامی سے کسی کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
رہی بات حکومت کی وہ آگ لگنے پر ایک اور آئینی ترمیم کر لے گی کیونکہ یہی تو سب سے آسان کام ہے۔ شوہر اپنی ہی بیوی کو گھورے تو سزا، ڈانٹے تو سزا، طلاق کی دھمکی دے تو سزا،18 سال سے کم عمر میں شادی پر سزا، ہیلمٹ نہ پہننے پر سزا، اب آگ والے پلازوں اور آگ سے جل مرنے والوں پر بھی سزا تجویز کر دو۔ آئینی ترمیم کرنے کی جہاں ضرورت ہے وہاں کسی کی توجہ ہی نہیں، غریب کو تو شکنجے میں جکڑ لو گے، جبکہ امیر زادے ان سب سزاؤں سے پھر بھی بچ نکلیں گے۔ پھر کیا کرو گے؟
قارئین کے لیے لمحہ فکریہ چھوڑ کر جانا چاہتا ہوں!
آئینی ترامیم کی بجائے کیوں نہ ہم اپنی قوم کی تربیت شروع کر دیں بزرگوں کی تعظیم میں کھڑے ہونا بچوں کو اخلاقیات اور اقدار کے بارے میں سمجھانا کیا ہم سب کا ذمہ نہیں رہا؟. ہم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی نہیں جو راستے سے کانٹے اور پتھر ہٹانے کو نیکی قرار دیتے تھے،
بزرگوں کی تعظیم کا اس حد تک معاملہ تھا کہ ایک مرتبہ فتح مکہ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد ابو قحافہ (ان کی بینائی بھی کم تھی) کو دیدار کے لیے لائے۔ ہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے ابوبکر آپ نے انہیں کیوں زحمت دی مجھے بلا لیا ہوتا میں ان کے پاس خود چلا جاتا۔
اب قوم کی تربیت ناگزیر ہے اپنی نئی نسل کو اخلاقی تعلیم اور جسمانی طور پر مضبوط بنانا ہے اس عمل میں والدین اساتذہ اور ریاستی اداروں کا کلیدی کردار ہے۔ جو بچوں کو نظم و ضبط، حب الوطنی، دینوی و عصری علوم سے وابستگی اور عملی صلاحیتوں سے آراستہ کر کے ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد رکھیں۔ (جمیل احمد)