راولپنڈی لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس طارق محمود باجوہ اور جسٹس جواد حسن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی جانب سے اپنی تصنیف “لال حویلی سے اقوام متحدہ تک” عدالت کو پیش کرنے کی پیشکش مسترد کر دی۔سماعت کے دوران جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیئے کہ ہم کسی سے ایک پنسل بھی نہیں لے سکتے، اگر آپ اپنی کتاب دینا چاہتے ہیں
تو اسے ہائی کورٹ کی لائبریری میں جمع کروا دیں۔ یہ ریمارکس شیخ رشید کے بیرون ملک سفر سے متعلق وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کے دوران دیئے گئے۔گزشتہ روز سماعت کے موقع پر شیخ رشید اپنے وکیل سردار شہباز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سیکریٹری داخلہ کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ شیخ رشید کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر ان کا نام ای سی ایل سے نکالا گیا لیکن بعد ازاں پی این آئی ایل میں ڈال دیا گیا۔شیخ رشید نے عدالت کو بتایا
کہ وہ 17 مرتبہ وفاقی وزیر رہ چکے ہیں اور انہیں عمرہ کی ادائیگی سے روکا جا رہا ہے۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ شیخ رشید کو 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں نامزد ہونے کی وجہ سے روکا گیا ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 مارچ تک ملتوی کر دی۔