شہرت پر آنسو: مفتی شمائل ندوی کی عاجزی کا سبق

تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

مفتی شمائل ندوی اِن دنوں سعودی عرب میں موجود ہیں، اور وہاں اُن کے ساتھ جس قدر عزّت، وقار اور محبّت کا برتاؤ کیا جا رہا ہے، وہ بلاشبہ ایک خوش آئند اور قابلِ غور حقیقت ہے۔ یہ عزّت کسی دنیاوی منصب، سیاسی وابستگی یا میڈیا مہم کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک خالص دینی موقف، علمی جرات اور حق کی ترجمانی کا ثمر ہے۔

سعودی عرب جیسے مرکزِ اسلام میں کسی عالمِ دین کو قبولیت ملنا معمولی بات نہیں۔ وہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے علما، مفکرین اور دینی شخصیات موجود ہوتی ہیں، جو محض جذبات یا شہرت سے متاثر نہیں ہوتیں بلکہ علم، اخلاص اور دلیل کو معیار بناتی ہیں۔ ایسے ماحول میں مفتی شمائل ندوی کی پذیرائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کا علمی کام خلوص پر مبنی ہے۔

اصل وجہ جس نے مفتی شمائل ندوی کو عالمی سطح پر متعارف کرایا، وہ ایک بڑے اسٹیج پر ایک ملحد کے سامنے اللہ تعالیٰ کی حقانیت کو مدلل انداز میں ثابت کرنا تھا۔ یہ محض ایک مناظرہ نہیں تھا بلکہ عقلی، فکری اور اخلاقی سطح پر حق کا بھرپور دفاع تھا، جس نے سننے والوں کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔

ملحدانہ فکر کے سامنے ثابت قدمی، تحمل اور دلیل کے ساتھ گفتگو کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے نہ صرف گہرا علم درکار ہوتا ہے بلکہ اللہ پر کامل توکل، دل کی سچائی اور نیت کی پاکیزگی بھی لازم ہوتی ہے۔ مفتی شمائل ندوی نے اسی اسلوب کو اپنایا اور یہی وجہ ہے کہ اُن کی بات وزن رکھتی تھی۔

سعودی عرب میں علماۓ کرام اور بڑی شخصیات کی جانب سے ان کی حوصلہ افزائی دراصل علم اور دعوتِ دین کے احترام کا مظہر ہے۔ یہ پیغام بھی ہے کہ اگر کوئی شخص اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کرے تو جغرافیائی سرحدیں اور مسلکی دیواریں خود بخود گر جاتی ہیں۔

ایک انٹرویو کے دوران مفتی شمائل ندوی کا رو پڑنا دلوں کو چھو لینے والا منظر تھا۔ اُن کی آنکھوں میں آنسو شہرت کی خوشی کے نہیں بلکہ اس خوف کے تھے کہ کہیں یہ عزّت اور مقبولیت فتنہ نہ بن جائے۔ یہ رویہ ایک سچے عالمِ دین کی پہچان ہے جو کامیابی میں بھی خود کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھتا ہے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ عزّت اللہ کی طرف سے سعادت ہے، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ انسان اس عزّت کو کس طرح سنبھالتا ہے۔ یہی سوچ ایک داعی کو غرور سے بچاتی ہے اور اسے مسلسل عاجزی کی راہ پر قائم رکھتی ہے۔

آج کے دور میں جب شہرت کو کامیابی کا معیار سمجھ لیا گیا ہے، مفتی شمائل ندوی کا یہ طرزِ فکر ایک عملی درس ہے۔ وہ ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ اصل کامیابی اللہ کی رضا ہے، نہ کہ تالیاں، لائکس یا تعریفیں۔

سعودی عرب میں ان کے ساتھ جو حسنِ سلوک روا رکھا جا رہا ہے، وہ مسلک سے بالاتر ہو کر ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے ساتھ اپنانا چاہیے۔ اختلاف کے باوجود احترام، اور تنوع کے باوجود اتحاد ہی امت کی اصل طاقت ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشروں میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ اگر کوئی عالم کسی خاص مسلک یا مکتبِ فکر سے وابستہ ہو تو اس کے کام کو تعصب کی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسے میں مفتی شمائل ندوی کے ساتھ ہونے والا رویہ ایک مثبت مثال ہے۔

یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ جب دعوتِ دین خالص ہو اور اس کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو تو دل خود بخود جڑ جاتے ہیں۔ سعودی عرب میں مختلف پس منظر رکھنے والے علما کا ایک عالم کے گرد جمع ہونا اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔

مفتی شمائل ندوی کی شخصیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ علم کے ساتھ حلم، اور دعوت کے ساتھ اخلاق کس قدر ضروری ہیں۔ یہی امت کے لیے وہ اوصاف ہیں جو دلوں کو فتح کرتے ہیں، نہ کہ سختی اور تنگ نظری۔

آج کے فکری چیلنجز، خصوصاً الحاد اور تشکیک کے ماحول میں ایسے علما کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے جو جدید ذہن کو سمجھتے ہوں اور دلیل کے ساتھ بات کر سکیں۔ مفتی شمائل ندوی کا کردار اسی ضرورت کو پورا کرتا نظر آتا ہے۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ انہوں نے کسی کو نیچا دکھانے یا تضحیک کرنے کے بجائے دلیل، حکمت اور وقار کو اپنا ہتھیار بنایا۔ یہی اسلوب قرآن و سنت کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔

سعودی عرب میں ان کی عزت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر دعوتِ دین حکمت کے ساتھ کی جائے تو وہ دلوں میں جگہ بناتی ہے، چاہے مخاطب کتنا ہی مخالف کیوں نہ ہو۔

ہمیں بحیثیتِ امت یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے علما کے ساتھ ایسا ہی رویہ اپناتے ہیں؟ کیا ہم علم، اخلاص اور قربانی کی قدر کرتے ہیں یا محض اختلاف کو بنیاد بنا کر رد کر دیتے ہیں؟

ایک عالمِ دین جو صحیح معنوں میں دعوت کا فریضہ انجام دے رہا ہو، اس کے ساتھ مزید اچھا رویہ ہونا چاہیے، نہ کہ شک، الزام اور نفرت۔ یہی وہ اصول ہے جو امت کو جوڑ سکتا ہے۔

مفتی شمائل ندوی کا سفر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر نیت صاف ہو تو اللہ خود راستے کھول دیتا ہے اور ایسے مقامات پر عزّت عطا کرتا ہے جہاں انسان نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔

یہ واقعہ نوجوانوں کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ دین کا دفاع جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ علم، مطالعہ اور کردار سے کیا جاتا ہے۔ یہی راستہ دیرپا اثرات چھوڑتا ہے۔

سعودی عرب میں مفتی شمائل ندوی کے ساتھ ہونے والا احترام دراصل علم، دعوت اور اخلاص کا احترام ہے۔ یہ ایک فرد کی نہیں بلکہ اس فکر کی عزّت ہے جو حق کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔

اگر ہم اس رویے کو اپنے معاشروں میں بھی اپنالیں تو اختلاف کم اور خیر زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو مفتی شمائل ندوی کی موجودہ مقبولیت ہمیں خاموشی سے دے رہی ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس عزّت کو ان کے لیے فتنہ نہ بنائے بلکہ مزید اخلاص، عاجزی اور خدمتِ دین کا ذریعہ بنائے، اور ہمیں بھی ایسا ہی باوقار اور منصفانہ رویہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے