پنجاب حکومت کی جانب سے متعارف کروایا گیا صفائی کا جدید منصوبہ ستھرا پنجاب آج نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی خبررساں اداروں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ منصوبہ محض سڑکوں کی صفائی تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل ڈیجیٹل ویسٹ مینجمنٹ سسٹم ہے جس کا مقصد صفائی کے شعبے میں شفافیت، کارکردگی اور عوامی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔
ماضی میں پنجاب کے شہروں میں بھی صفائی کا نظام روایتی طریقوں پر چل رہا تھا جہاں شکایات کا ازالہ تاخیر کا شکار رہتا، عملے کی حاضری کا درست ریکارڈ موجود نہ ہوتا اور کچرے کی منتقلی میں بے ضابطگیاں عام تھیں۔ انہی مسائل کے حل کے لیے حکومت پنجاب نے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے ستھرا پنجاب منصوبہ شروع کیا، جس نے ویسٹ مینجمنٹ کے پورے ڈھانچے کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کر دیا۔
اس منصوبے کی سب سے بڑی خصوصیت ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمہے۔ صفائی کے عملے کو موبائل ایپس کے ذریعے حاضری لگانے، کام کی تصاویر اپ لوڈ کرنے اور روزانہ کی رپورٹ جمع کروانے کا پابند بنایا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے افسران براہ راست فیلڈ کی صورتحال مانیٹر کر سکتے ہیں، جس سے جعلی رپورٹنگ اور غفلت کا خاتمہ ممکن ہوا ہے۔
اسی طرح کچرا اٹھانے والی گاڑیوں میں جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے، جس سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون سی گاڑی کہاں ہے، کتنی دیر تک کہاں رکی اور کیا وہ مقررہ راستے پر عمل کر رہی ہے یا نہیں۔ اس ڈیجیٹل نگرانی نے ایندھن کے ضیاع کو کم کیا اور کچرے کی بروقت منتقلی کو یقینی بنایا۔
ستھرا پنجاب منصوبے کے تحت شہریوں کو بھی ڈیجیٹل نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ستھرا پنجاب شہری ایپ کے ذریعے کوئی بھی شہری صفائی سے متعلق شکایت درج کر سکتا ہے، تصویر اپ لوڈ کر سکتا ہے اور شکایت کی پیش رفت کو براہ راست دیکھ سکتا ہے۔ اس عوامی شمولیت نے صفائی کے نظام کو یکطرفہ حکومتی کوشش کے بجائے ایک مشترکہ ذمہ داری میں بدل دیا ہے۔
ڈیجیٹل ڈیٹا اینالیٹکس بھی اس منصوبے کا اہم ستون ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر جمع ہونے والا ڈیٹا اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کن علاقوں میں زیادہ کچرا پیدا ہو رہا ہے، کن جگہوں پر صفائی کی ضرورت زیادہ ہے اور کن یونین کونسلز میں عملے کی کارکردگی بہتر یا کمزور ہے۔ ان اعداد و شمار کی بنیاد پر وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل ویسٹ مینجمنٹ نہ صرف اخراجات کم کرتی ہے بلکہ ماحول دوست پالیسیوں کو بھی فروغ دیتی ہے۔ ستھرا پنجاب منصوبے کے تحت کچرے کی سورس سیگریگیشن یعنی گھروں سے ہی خشک اور گیلا کچرا الگ کرنے کی مہم بھی چلائی جا رہی ہے، جسے ڈیجیٹل آگاہی مہم کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے۔
کئی شہروں میں ری سائیکلنگ یونٹس کو ڈیجیٹل طور پر ویسٹ مینجمنٹ سسٹم سے جوڑا گیا ہے تاکہ قابلِ استعمال کچرا دوبارہ صنعتوں میں استعمال ہو سکے۔ اس عمل سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے۔
ستھرا پنجاب منصوبے میں کلاؤڈ بیسڈ مینجمنٹ سسٹم کا استعمال بھی قابلِ ذکر ہے۔ تمام ڈیٹا ایک مرکزی سرور پر محفوظ ہوتا ہے جس تک متعلقہ اداروں کو فوری رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اس سے فیصلہ سازی میں تاخیر ختم ہو گئی ہے اور پالیسی سازی زمینی حقائق کی بنیاد پر ممکن ہو رہی ہے۔
عالمی ادارے اس منصوبے کو ایک ماڈل ڈیجیٹل سٹی سینیٹیشن سسٹم قرار دے رہے ہیں۔ کئی ترقی پذیر ممالک پنجاب حکومت کے اس ماڈل سے سیکھنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیموں نے بھی ستھرا پنجاب کو پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
تاہم ہر منصوبے کی طرح اس میں بھی کچھ چیلنجز موجود ہیں۔ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی، عملے کی ڈیجیٹل تربیت کی کمی اور عوامی آگاہی کی ضرورت ایسے مسائل ہیں جن پر مزید توجہ درکار ہے۔ حکومت پنجاب نے ان مسائل کے حل کے لیے تربیتی پروگرامز اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر کام شروع کر دیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ ستھرا پنجاب منصوبہ صرف صفائی نہیں بلکہ ڈیجیٹل گورننس کی ایک مثال ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کو درست منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو عوامی خدمات میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔
یہ منصوبہ نوجوانوں کے لیے بھی امید کی کرن ہے، کیونکہ آئی ٹی ماہرین، ڈیٹا اینالسٹس اور سافٹ ویئر ڈیولپرز کو حکومتی منصوبوں میں روزگار کے مواقع مل رہے ہیں۔ اس طرح یہ منصوبہ معاشی ترقی میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ستھرا پنجاب محض ایک صفائی مہم نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل تحریک ہے جو پنجاب کو صاف، سرسبز اور جدید بنانے کی جانب گامزن ہے۔ اگر اس منصوبے کو تسلسل اور شفافیت کے ساتھ جاری رکھا گیا تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب صفائی کے عالمی معیار پر پورا اترے گا۔
یہ منصوبہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی مسائل کا حل ممکن ہے، اور ستھرا پنجاب آنے والی نسلوں کے لیے ایک صاف اور صحت مند ماحول کی ضمانت بن سکتا ہے۔
تحریر
عبد البصیر ملک
