راولپنڈی کنٹونمنٹ جنرل ہسپتال کے بیت الخلاؤں میں خفیہ طور پر خواتین کی نازیبا اور قابل ویڈیوز بنانے کا انکشاف ہوا ہے یہ انکشاف اس وقت ہوا جب ایک متاثرہ خاتون نے ویڈیو بنانے پر شور مچا دیا جس پر ہسپتال کے سکیورٹی عملے نے ساتھ والے بیت الخلا میں چھپے شخص کو قابو کر کے پولیس کے حوالے کر دیا تھانہ کینٹ پولیس نے ہسپتال کے سکیورٹی سپروائزر نعمان کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 292 اور 509 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے
مقدمہ کے متن کے مطابق مدعی اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا کہ بیت الخلا کی جانب سے خواتین کے چیخنے کی آوازیں آئیں دیگر عملے کے ہمراہ موقع پر پہنچا تو خاتون نے بتایا کہ کوئی شخص چھپ کر اس کی ویڈیو بنا رہا تھا جس پر متصل بیت الخلا کا دروازہ کھلوایا تو مانسہرہ کے رہائشی محمد خالد کے ہاتھ میں موبائل تھا جس کی پڑتال کی تو موبائل سے خواتین رفع حاجت کے دوران کی ویڈیوز برآمد ہوئیں جسے بعد ازاں ہسپتال کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر فواد اور دیگر سکیورٹی عملے کے ہمراہ تھانے منتقل کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔