راولپنڈی عدالت نے نوجوان کے قتل کیخلاف CCDاہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا


راولپنڈی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی صاحبزادہ نقیب شہزاد نے مبینہ پولیس مقابلے میں نوجوان کے قتل کے خلاف کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے خلاف دائر درخواست پر سی سی ڈی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے عدالت نے یہ حکم مقتول کی بہن کی درخواست پر جاری کیا فضل آباد ڈھوک الٰہی بخش کی رہائشی مقتول کی ہمشیرہ آسیہ زوجہ قاسم علی نے اپنے بیٹے کے قتل کو جعلی پولیس مقابلہ قرار دیتے ہوئے

سی سی ڈی کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لئے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22 اے کی درخواست دائر کی تھی گزشتہ روز سماعت کے موقع پر مقتول کی والدہ اور بہنیں اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ موجود تھیں درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 30 نومبر کو یونیفارم اور سول کپڑوں میں ملبوس 10 سے زائد پولیس اہلکار کسی قانونی جواز کے بغیر اسلحہ کے زور پر زبردستی ان کے گھر گھس گئے اور گھر میں تلاشی کے دوران توڑ پھوڑ شروع کردی

اس دوران انسپکٹر شفقت اور سردار عاصم نے دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ تم نے اپنے بیٹے محمد نعیم عرف گڈو کو کہاں چھپا رکھا ہے اس دوران کانسٹیبل ملک عادل سمیت دو پولیس اہلکاروں نے ان سے زبردستی لیپ ٹاپ، ڈی وی آر اور 90 ہزار روپے نقدی بھی چھین لی اس طرح پولیس 2 گھنٹے سے زائد وقت ان کے گھر موجود رہی اور بعد ازاں انسپکٹر شفقت کو فون کال آنے پر واپس روانہ ہوگئے جس کے بعد درخواست گزار نے پولیس سے رابطہ کیا تاکہ پتہ چل سکے کہ اس کے بھائی کے خلاف کیا کیس ہے بعد ازاں اسی روز سہہ پہر کے وقت نعیم کے دوست ملک بابر نے گھر آکر اطلاع دی کہ درخواست گزار کے بھائی کو سنیارے والی گلی سے

پولیس پکڑ کر زبردستی اپنے ساتھ لے گئی ہے جس پر فوری طور پر 15 پر کال کی جنہوں نے تھانہ وارث خان سے رابطے کا کہا جب درخواست گزار والدہ اور بہن کے ہمراہ تھانہ وارث خان جا رہی تھی تو دیکھا کہ عمر روڈ پر انسپکٹر شفقت اور دیگر پولیس اہلکار اس کے بھائی کو پرائیویٹ آلٹو کار میں بٹھا رکھا تھا جس پر درخواست گزار نے لپک کر گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن دروازہ لاک تھا اور انسپکٹر شفقت کسی سے فون پر بات کر رہا تھا تاہم پولیس نے درخواست گزار کو دھکیلتے ہوئے گاڑی چلا دی جبکہ کانسٹیبل عادل نے درخواست گزار پر فائز کیا لیکن خوش قسمتی سے وہ بچ گئی سیف سٹی کیمروں سے اس سارے واقعہ کی فوٹیج بھی لی جاسکتی ہے بعد ازاں یکم دسمبر کو نعیم کے دوستوں چوہدری مدثر اور بہادر کے ذریعے اطلاع ملی کہ نامعلوم لاش ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال میں پڑی ہے جسے سی سی ڈی چھوڑ کر گئی ہے بعد ازاں پولیس نے خاموش رہنے کی تاکید کرتے ہوئے درخواست گزار کے بھائی کی لاش اس کے دوستوں کے حوالے کر دی

جبکہ پولیس نے درخواست گزار کے بھائی کے خلاف بے بنیاد مقدمہ بھی درج کردیا جس پر درخواست گزار نے انصاف کے حصول اور مقدمہ کے اندراج کے لئے درخواست دی لیکن کسی جگہ کوئی شنوائی نہ ہوئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزار کے بھائی کے ماورائے عدالت قتل کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نعیم خان کو 31 نومبر کو دن کے وقت اٹھایا گیا جس کے شواہد موجود ہیں پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے اور سامان بھی ساتھ لے گئے نعیم خان کو اغوا کرنے کے بعد چکوال میں پولیس مقابلے

میں قتل کرنے کے بعد پولیس نے جعلی پولیس مقابلے کا مقدمہ سی سی ڈی چکوال میں درج کیا اس طرح سی سی ڈی اہلکاروں نے نعیم خان کو ماورائے عدالت قتل کیا اس موقع پر وکیل نے سی سی ٹی وی فوٹیج عدالت میں جمع کراتے ہوئے بتایا کہ ہلاک شخص کو راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تاہم پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے محمد نعیم عرف گڈو نامی مقتول بدنام زمانہ منشیات فروش تھا جو قبل ازیں 22 مقدمات میں چالان ہو چکا ہے پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہلاک شخص نے

چکوال اوڈھروال کے مقام پر ساتھی کے ہمراہ پولیس پر فائرنگ کی تھی جب ان کا تعاقب کیا گیا تو ایک شخص خون میں لت پت مردہ حالت میں پایا گیا پولیس نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے ہلاک شخص اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہوا ہے عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد زبانی آرڈر میں سی سی ڈی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا درخواست گزار کی طرف سے انسپکٹر چوہدری شفقت، انسپکٹر سردار عاصم، انسپکٹر محسن شاہ، کانسٹیبل ملک عادل، عدنان غیور، علی شاہ اور بلال شاہ سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا تھا یاد رہے کہ تھانہ سی سی ڈی چکوال نے 30 نومبر کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 324، 353، 186، 427 اور 34 کے علاوہ پنجاب اسلحہ ترمیمی آرڈیننس 2015 کی دفعہ (a)13-2 کے تحت مقدمہ نمبر 91 درج کیا تھا

اسسٹنٹ سب انسپکٹر نعیم عباس کی مدعیت میں درج مقدمہ کے متن کے مطابق پولیس پارٹی اشتہاریوں کی پڑتال اور اسلحہ و منشیات کی پڑتال کے سرگودھا بائی پاس پر موجود تھی کہ اسی اثناء میں اوڈھروال گاؤں کی جانب سے موٹر سائیکل پر سوار دو افراد آئے جنہیں رکنے کا اشارہ کیا لیکن انہوں نے موٹر سائیکل واپس موڑ کر پولیس پر فائرنگ کردی جس سے پولیس نے بمشکل جانیں بچائیں اور اپنی حفاظت کے لئے ہوائی فائر کئے اسی دوران ایک موٹر سائیکل سوار اپنے ہی نامعلوم ساتھی کی فائرنگ کی زد میں آکر دم توڑ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔