جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐاور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہی لوگ دنیا میں فسادکا باعث ہیں اس لئے کہ یہ زمین اللہ کی ہے یہاں نظام بھی اسی کا چلتا ہے جو لوگ اللہ کے نظام کو ماننے والے ہیں وہی مطیع اور مطیع ہیں اور جو اس نظام کوتسلیم نہیں کرتے وہ مفسدین ہیں اور یہ اپنے فاسد ہونے کا اقرار نہیں کرتے بلکہ مصلحین ہونے کے دعویدار ہیں لیکن قرآن کریم واشگاف الفاظ میں اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ یہی لوگ زمین میں فساد کی جڑ ہیں انہی کفارومنافقین کی وجہ سے دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہوتے ہیں چودہ سو سال پہلے حالات کا جب ہم اپنے موجودہ دور کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو وہی منظر ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتاہے آج بھی کفر و نفاق کے دلدارہ اپنے آباء واجداد کی پیروی کرتے ہوئے مصلحین ہونے کے دعویدار ہیں اور اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اپنے آباء واجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مسلمانوں کو موردالزام ٹھہراتے ہیں اور مسلمانوں کو دہشت گرد کہتے ہیں انہوں نے پوری دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دیا ہے ان کی وجہ سے پورے عالم کا امن تہہ وبالاہے اور یہ مستقبل میں عالمی امن کیلئے بہت بڑا خطرہ ہیں دہشت گردوں کے خلاف ہمیں مل کر کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا پڑے گا یہ دنیا کا وہ خطرناک ترین مسئلہ ہے جس کی وجہ سے عالم کفر کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہے یہی وہ مسئلہ ہے جس کو بنیاد بنا کر عالمی امن کے ٹھیکیدار مسلمانوں کے خلاف اپنی دلی نفرت اور بغض کا اظہارکرتے رہتے ہیں آیئے ذرا اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا واقعتا مسلمانوں کی وجہ سے آج پوری دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہے؟سب سے پہلے ہم مختصر سا جائزہ ان غیر مسلم باشندوں کا لیتے ہیں جو مختلف اسلامی ممالک صدیوں سے آباد ہیں ہمیں پوری دنیا کے اندر کوئی اسلامی ملک ایسا نظر نہیں آتا جس نے اپنے ملک میں رہنے والے غیر مسلموں کے ساتھ ظلم وستم کا بازار گرم کیا ہوذرا سوچئے کیا کسی اسلامی ملک میں ان غیر مسلموں کو ان کے گھر سے بے دخل کیا گیا؟کیا ان کی خواتین کو بے آبرو کیا گیا؟اسلامی ممالک میں ہونے والی کسی بھی خونیریزی‘کاروائی یا دھماکہ کے بعد ان کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا؟کیا ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا غیر امتیازی سلوک کیا گیا؟ان تمام سوالات کا جواب آپ کو یقینا”نہیں“میں ملے گا بلکہ اسلامی ممالک میں ان کو دیئے گئے حقوق کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے ان کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا جاتا ہے بلکہ یہاں تک دیکھنے میں آتا ہے کہ جتنا اخترام ان یہود ونصاریٰ اور خصوصاََان کے وزراء کا ہمارے مسلمان حکمران کرتے ہیں اتنا احترام تو اپنے ہاں کے کسی بڑے سے بڑے محب دین اور محب وطن کا بھی نہیں کرتے اس کے برعکس ذرا غیر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے حالات کا دل تھام کر جائزہ لیجئے روس کی طرف جب ہم نظر اٹھاکر دیکھتے ہیں وہاں عجیب و غریب صورتحال نظر آتی ہے کوئی ایک یا دو گھر نہیں کسی ایک یا دو بستیوں کا ذکر نہیں کسی ایک شہر کی بات نہیں یہاں تو ملکوں کے ملک پر انتہائی ظالمانہ اور غاصبانہ قبضہ کر لیا گیا کروڑوں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن کر دی گئیں ان سے جینے کا حق تک چھین لیا گیا ان کو اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا مساجد اجاڑ دی گئیں مدارس ویران کر دیئے گئے خانقاہوں کو ملیا میٹ کر دیا گیا اللہ کا نام لینے پر پابندی عائد کر دی گئی اسلامی وضع قطع اختیار کرنے والوں کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے پڑے خواتین کو بے حیائی اور عریاں لباس پہنے پر مجبور کیا گیا ان کی عفت و عصمت کو تار تار کیا گیا ماؤں سے ان کے لخت جگر چھین لئے گئے باپ اپنے قوت بازو اور بڑھاپے کے سہارے سے محروم کر دیئے گئے اور اپنے جوان بیٹوں کے خون میں لت پت لاشے اٹھا اٹھا کر تھک گئے بھائیوں کے سامنے ان کی پاک دامن بہنوں کی عفت وعصمت کو داغدار کیا گیالاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو تہہ تیغ کیا گیا غرض کوئی شہر اور بستی ایسی نہیں جو ان وحشی درندوں کے ظلم و ستم سے محفوظ رہی ہوبھارت بھی ایک ایسا ہی خونخوار درندہ ہے دنیا کے اندر امن کا راگ الاپنے والا بھارت ظلم وجبر‘دہشت وبربریت اور وخشانہ مظالم ڈھانے میں کسی سے بھی کم نہیں اپنی ہی قوم کے افراد کو ذلیل اور حقیر سمجھنا ہندو مذہب ہی کی نمایاں خصوصیت ہے اور مسلمانوں سے ان کا بغض و عناد اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے خصوصاََکشمیر پر بھارت کا غاصبانہ تسلط وحشت و درندگی کا ننگا ناچ‘ایذارسائی کے شرمناک ہتھکنڈے کسی سے مخفی نہیں قتل و غارتگری کا وہ خوفناک منظر جس سے خود انسانیت تھرتھرکانپنے لگے ایک لاکھ کے قریب مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہزاروں مسلمان خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی گئی ہزاروں کو جیل کی تاریک اور وحشت ناک کال کو ٹھریوں میں ہمیشہ کیلئے موت کی نیند سلا دیا گیا ہزاروں ماؤں‘بہنوں نے اپنی عزت بچانے کیلئے اپنے آپ کو دریاؤں کی موجوں کے سپردکر دیا ہزاروں کو اپنے گھروں میں زندہ جلا دیا گیا مظالم کا ایک طویل سلسلہ ہے جسے لکھتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کیا یہ واقعات بھارت کو دہشت گرد ثابت کرنے کیلئے کافی نہیں؟کیا ان واقعات کے رونما ہونے کے بعد بھی کوئی ملک مہذب کہلانے کا حق دار ہے؟کیا ان دردناک واقعات کے بعد بھی امن امن ما لا جپنے والے یہ عالمی امن کے ٹھیکیداراس بھیڑیئے کی طرف دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھاتے؟جو مسلمانوں کا خون پینے کے درپے ہے یہ ان ممالک کا مختصر سا جائزہ ہے جو مسلمانوں پر ظلم وستم روا رکھے ہوئے ہیں اور مسلمانوں پر ظلم ڈھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے آج ان کے تمام وسائل اور صلاحیتیں مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں اور ہر روز نت نئے منصوبے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے بنائے جا رہے ہیں آج عالم کفر پوری دنیا سے مسلمانوں کے وجود کومٹانے کے درپے ہے آج کفار سر جوڑ کر بیٹھے ہیں اور آقائے دو جہاں کے فرمان کے مطابق ایک دوسرے کو بلا رہے ہیں اور ہمیں کھانے کیلئے ایک دسترخوان پر جمع ہو رہے ہیں اپنے ان ناپاک منصوبوں اور کمزور تدبیروں کے ذریعے امت مسلمہ کے چراغ کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے گل کر دینا چاہتے ہیں لیکن یہ اللہ کی تدبیر اور اس کے فیصلوں سے ناواقف ہیں ان کے یہ مکڑی کے جالے اس اللہ کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے یہ دین اب عروج حاصل کرتا جائے گاشہدا کے خون کی برکت سے پوری دنیا پر اسلام نافذ ہو کر رہے گا اور اللہ اسلام کے چراغ کو روشن کرکے رہے گا کا فر کتنا ہی واویلا کریں کتنا ہی شور مچاہیں کتنے ہی دہشت گردی کے الزامات لگاہیں اب یہ اسلام کے بڑھتے ہوئے قدم نہیں روک سکیں گے انشاء اللہ
