جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم آئین اور قانون کے رکھوالے ہیں ،حکمران آج ملک پر جعلی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں ۔اسلئے اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ جماعت محض اقتدار کی جنگ نہیں لڑ رہی،اقتدار میں آنا منزل مقصود نہیں ۔ آج کچھ جماعتوں کو آپس میں چپکا کر حکومت بنائی گئی ہے ،اس طرح کی حکومتیں تشکیل دینا جمہوریت سیاست کا مذاق ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو آئی کے رہنما فرخ کھوکھر کی رہائش گاہ پر منعقدہ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ بڑی تعداد میں فرخ کھوکھر کی برادری اور دوستوں نے جے یو آئی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔انہوں نے کہاکہ دوسال قبل اسی دن ملک میں الیکشن ہوئے ۔
اس نتیجے کو مسترد کیا گیا اس کو جعلی قرار دیا ۔ جے یو آئی ایسی حکومت میں شامل نہیں ہوسکتی ۔اکثریت حاصل کرنا عیب نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ عوام کی طاقت پر اکثریت حاصل کریں تو ہمیں قبول ہوگا ۔ہم دیکھ رہے ہیں مشاہدات ہیں کہ کس طرح نتائج تبدیل کئے گئے کس طرح جھرلو پھیر ا گیا ۔ الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ نتائج ہم تیار کرتے ہیں ۔ چیلنج کرتا ہوں کہ ایک حلقے کا نتیجہ الیکشن کمیشن نے نہیں تیار کیا ۔سارے نتائج باہر سے آتے ہیں ۔ ایسا کٹھ پتلی کمیشن پوری دنیا میں کہیں نہیں ۔انہوں نے کہا کہ آپ اکثریت حاصل کریں دل سے احترام کریں گے ، جمعیت علمائے اسلام اس جھرلو الیکشن کو قبول نہیں کرتی، نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.