خواتین کو بااختیار بنانے کا عزم ہمارا نصب العین ہے: ملک آصف محمود۔ خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے والد بنیادی کردار ادا کرتے ہیں: فرحانہ قمر رانا ایڈووکیٹ سپریم کورٹ۔    خواتین کی نمائندگی ہر شعبے بالخصوص دینی محافل میں قلیل ہے: سید گفتار حسین شاہ ایڈووکیٹ

 ٹیکسلا۔ خواتین کے خلاف انسداد جرائم کے عالمی دن کی مناسبت سے پاکستان یوتھ لیگ والنٹیئر فورم واہ کینٹ کے زیر اہتمام ایک پروقار تقریب کا انعقاد ہوا چیئرپرسن عفت رؤف نے نوجوانوں اور خواتین سے متعلق اپنے فورم سے اہم قانونی نکات اور خواتین کے۔خلاف مختلف النوع جرائم کے انسداد پر ایک جامع گفتگو پینل ڈسکشن کے ذریعے منعقد کرائی۔

تقریب میں تلاوت کلام پاک بین الاقوامی شہرت یافتہ قاری محمد امین مجددی نے خوبصورت انداز میں پیش کی نعت رسول مقبولﷺ کیو ٹی وی سیزن 12 کے فاتح معروف نعت خواں ارسلان اقبال کریمی نے پڑھی۔

منتظمین میں صدر حافظ علی رضا،جنرل سیکرٹری تمکنت رؤف امیر ،سید رافع علی ،عاطف مرزا،جاوید اقبال مرزا،راجا اعجاز گوہر شامل تھے صدارت کے فرائض ملک آصف محمود صدر وطن دوست فورم ،پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل ٹیکسلا نے انجام دیے جبکہ مہمان خصوصی ممبر بار ایسوسی ایشن ٹیکسلا محترمہ فرحانہ قمر رانا ایڈووکیٹ سپریم کورٹ تھیں۔

پینل کے مہمانان اعزاز میں سردار ذوالفقار حیات خان ایڈووکیٹ،سید گفتار حسین شاہ ایڈووکیٹ،محمد علی قریشی ایڈووکیٹ،کرنل (ر) فرخ محمود ملک اور نعیم اشرف شامل تھے پاکستان پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ کے ڈاکٹر ذوالقرنین اور کلینکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر فاروق منیر نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی مرد و ون کی کثیر تعداد نے تقریب میں بھرپور شرکت کی۔

خواتین نے صنفی تضادات،پیشہ ورانہ امور میں درپیش چیلنجز،حق جائیداد، پسند کی شادی،خلع و طلاق کے مسائل،نان و نفقہ کی قانونی صورتحال اور شرعی نظام عدل میں خواتین کے مقام اور انصاف پر اہم سوالات کیے جن کے مدلل جوابات پینل کے ماہرین نے بخوبی دیے۔ منتظمین نے اس دن کو پاکستانی سیاست کی اہم خواتین محترمہ فاطمہ جناح،محترمہ بینظیر بھٹو،مریم نواز شریف اور آصفہ بھٹو زرداری کے نام مانون کیا۔

ڈیجیٹل ہراسگی ،آن لائن فراڈ،بلیک میلنگ اور گھریلو تشدد کے خلاف قوانین کی موجودگی خوش آئند ہے لیکن ان کے اطلاق کا مسئلہ ہمیشہ درپیش رہا طلاق کے بعد یاخلع کے دوران خواتین کی رہائش اور اخراجات کے معاملات کا خوف انھیں ظلم برداشت کر کے ناسازگار ماحول میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کرتا ہے تھانے کچہری کی طویل صبر آزما مشقت ماں اور بچوں کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں یہی مسائل زیر بحث رہے اور حکومت سے ان پر خصوصی توجہ کی درخواست کی گئی