تحریر: حاجی محمد رفیق قادری ۔۔ حسن ابدال
جہانِ رحمت ، عشقِ رسول ﷺ کے چراغ کی ایک نئی تجلی
چند روز قبل ٹرینڈز ایلیمنٹری سکول میں معروف شاعر جناب ابرار شاکر کی کتاب “جہانِ رحمت” کی پروقار تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ یہ کتاب امامِ اہلِ سنت مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے شہرۂ آفاق کلام “سلامِ رضا” پر لکھی گئی تضمین پر مشتمل ہے۔
تقریب میں علمی، ادبی، روحانی اور سماجی حلقوں کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ جن میں سجادہ نشین دربار عالیہ گڑھی شریف پیر محمد اکرم شاہ، سجادہ نشین دربار عالیہ پیر ولایت شاہ کوہلیہ، پیر تصور حسین شاہ،معروف شعراء پروفیسر نصرت حسین بخاری، حاجی محمد مشتاق، شاکر القادری، وقار عالم جدون،نائب صدر منہاج علماء کونسل ضلع اٹک مفتی سید دلدار حسین شاہ۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحیم،محمد رمضان طاہر سماجی شخصیا ت کرنل (ر) اظہر علی، ڈویژنل صدر پاکستان پیپلز پارٹی سردار اشعر حیات خان، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر اٹک ظفر اسحاق، صدر بار ایسوسی ایشن سید اقدس حسین شاہ،حاجی عبدالحمید مغل سمیت کثیر تعداد میں معززین علاقہ شامل تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کاکہنا تھا کہ ابرار شاکر نے اعلیٰ حضرت کے کلام کی تضمین لکھتے ہوئے جذبات، کیفیات اور ادب و احترام کا بھرپور خیال رکھا ہے۔ الفاظ کے چناؤ کا سلیقہ، اسلوبِ بیان کی شائستگی اور عقیدت کی گہرائی قابلِ صد تحسین ہے۔ “سلامِ رضا” کی تضمین اپنے لکھنے والوں سے جس ادب اور احترام کا تقاضا کرتی ہے، شاعر نے اسے احسن انداز میں پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔
کتاب “جہانِ رحمت” میں شاعر نے عاجزی، درد مندی، اخلاص، محبت اور رواں اسلوب کے ساتھ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے گلدستے پیش کیے ہیں۔
مجددِ دین و ملت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ان خوش نصیب ہستیوں میں شامل ہیں جنہیں حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ آپ بلند پایہ عالم، عظیم مصنف اور سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے۔ آپ نے اپنے علم و ادب کے ذریعے محبتِ رسول ﷺ کا ایسا چراغ روشن کیا جو رہتی دنیا تک فروزاں رہے گا۔
آپ نے اپنی زندگی اتباعِ سنت، تعلیماتِ اسلام کے فروغ اور عشقِ رسول ﷺ کے پیغام کی نشر و اشاعت میں گزاری۔ آپ نے عزت و ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔آپ نے نبوت کے جھوٹے دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریک کا علمی و عقلی دلائل سے رد کیا۔ آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف “حسام الحرمین” نے قادیانی عقائد کے باطل ہونے کو واضح کیا۔
اعلیٰ حضرت کا علمی میدان کسی تعارف کا محتاج نہیں تاہم آپ کی نعتیہ شاعری بالخصوص “سلامِ رضا” نے انہیں شہرت کی بلند ترین منزلوں تک پہنچایا۔ اس کلام سلام رضاء پر کثیر شعرا نے طبع آزمائی کی اور تضمینیں لکھ کر شہرت حاصل کی۔ ابرار شاکر بھی انہی عاشقانِ رسول ﷺ کے قافلے میں شامل ہونے میں کامیاب ہوئے۔
ابرار شاکر کی تضمین کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
جس کی الفت میں پتھر بھی کلمہ پڑھیں
جو کہے تو شجر بھی مثل انسان چلے
حکم پر جس کے جنات کے سر جھکیں
وہ زباں جس کو سب کن کی کنجی کہیں
اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام
بے صدا جس نے کی رب سے گفت و شنود
اٹھ گیا جس کی خاطر حجابِ وجود
وا ہوا جس پہ بابِ غیوب و شہود
شبِ اسراء کے دولہا پہ دائم درود
نوشۂ بزمِ جنت پہ لاکھوں سلام
کتاب کی تقدیم معروف محقق، بانی و سرپرست اعلی ادارہ فروغِ افکارِ رضا و ختم نبوت اکیڈمی برہان، سید صابر حسین شاہ بخاری نے لکھی ہے۔”جو ان دنوں عمرہ کی ادائیگی کے بعد روضہ رسول ص کی زیارت کیلئےمدینہ طیبہ میں موجود ہیں۔” نے سلامِ رضا پر تضمین لکھنے والے شعرا کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ علامہ سید محمد مرغوب اختر الحامدی پہلے شاعر تھے۔ جنہوں نے 1981ء میں سلامِ رضا پر تضمین لکھی۔
انہوں نے معروف نعت گو اور ماہر علم الاعداد عبدالقیوم طارق سلطان پوری رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ذکر کیا جنہوں نے ان کی درخواست پر سلامِ رضا پر مسلسل تین تضمینیں لکھیں۔
سید صابر حسین شاہ بخاری سے میری نیاز مندی تین دہائیوں پر محیط ہے۔ مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے جب ان کی صاحبزادی کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کے گھر جانے کا موقع ملا۔ ان کا گھر پہاڑ کے دامن میں واقع تھا۔ کمرے میں جہاں نظر جاتی کتابیں ہی کتابیں دکھائی دیتیں۔ کتابوں سے محبت اور اعلیٰ حضرت سے عقیدت نے آج انہیں عالمی سطح پر متعارف کرا دیا ہے۔ وہ اس وقت سیہ ماہی الخاتم انٹرنیشنل کے چیف ایڈیٹر ہیں اور اس کے تین ضخیم خصوصی شمارے شائع کر چکے ہیں۔
واقعی کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
میں تو اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل
لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا
آج ملک و بیرونِ ملک، خصوصاً بھارت، برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک میں بسنے والے خاندانِ رضویہ کے لوگ ان سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ابرار شاکر بھی انہی خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے سید صابر حسین شاہ کے اصرار پر تین ماہ کے مختصر عرصے میں سلامِ رضا کے 171 اشعار پر 540 تضمینیں لکھنے کی سعادت حاصل کی۔ رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےابرار شاکر نے جذباتی انداز میں کہا کہ وہ روزانہ تین اشعار کی تضمین لکھتے رہے۔ جب آخری چند اشعار باقی رہ گئے تو ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔ ایک طرف خوشی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت عطا کی، اور دوسری طرف یہ احساس کہ کاش یہ سلسلہ جاری رہتا اورمیں مدحتِ مصطفی ﷺ میں مسلسل مصروف رہتا۔انہی کیفیات میں انہوں نے یہ خوبصورت اشعار دعائیہ انداز میں پیش کر کے اپنی تضمین کو اختتام پزیر کیا۔
کاش ہو جائے ایسا بہ فضلِ خدا
شاکر و شاہ صابر بھی ہوں ہم نوا
جب رضا پیشِ سرور ہو مدت سرا
اس سے خدمت کے قدسی کہیں ہاں رضا
مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام۔
نقابت کے فرائض صاحبزادہ محمد رضاء طاہر نےانتہائی خوبصورت انداز میں ادا کر کے سامعین سے خوب داد وصول کی
اس روح پرور علمی وادبی تقریب میں مرکزی صدر انجمن تاجراں چوہدری اظہر علی۔جنرل سیکریٹری شیخ محمد رفاقت۔تیمور ساجد خان۔وکلاء صحافی برادری۔ اساتزہ اور سول سوسائٹی سے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور میزبان تقریب حاجی فاروق احمد اور ان کے پورے سٹاف کی محنت کو داد و تحسین سے نوازا۔تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء کو کتاب “جہان رحمت” کا تحفہ پیش کیا گیا۔