جنت نظیر کہوٹہ مسائل کی آماجگاہ

سرزمین کہوٹہ جو کہ عالمی شہرت یافتہ تحصیل ہے اسکے باسی ہر طرح کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں یہاں کے عوامی نمائندے اور ان کے چمچے اور اب کڑچھے بھی لاؤنچ ہو چکے ہیں اس طبقہ نے عوام کوکچھ نہ دیا سوائے چند بوسیدہ وعدوں اور گھسے پٹے نعروں کے۔اس خطہ ارضی کے سب اداروں نے اس کے ساتھ سوتیلی ماں سے بھی بدتر سلوک کیا ہے۔عوامی خدمت کے لیے قائم ادارے کسی بھی طور پہ عوام کی خدمت سے محروم ہیں۔یہاں کے سرکاری ہسپتال دیکھ لیں مریض دور دراز سے پہنچ توجاتے ہیں لیکن کسی کو یہاں سے بہترین علاج کی سہولت میسر ہو جائے یا ہر چیز ایک ہی جگہ سرکاری طور پہ مل جائے ناممکن ہے۔سرکاری سکولوں کا حال یہ ہے کہ اکثر اساتذہ کرام کے اپنے بچے خود پرائیویٹ اداروں میں ہیں۔سرکاری تعلیمی ادارے عوام میں اپنا اعتماد بحال کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں ہو بھی کیسے کہ جب نہ وقت کی پابندی ہو گی نہ ہی کوئی سرپرائز وزٹ کا ڈر ہو گا عوام کے محافظ ادارے صرف خانہ پری کی حد تک سخت کاروائیاں کرتے نظر آئیں گے جبکہ اندرون خانہ یہاں بھی کرپشن نے جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔انفراسٹرکچر کا یہ حال ہے کہ ایک روڈ کا افتتاح تین بار کیا جاتا ہے اور تین ماہ کیا تین ہفتے بھی نہیں نکال سکتی شہر کے اندر یا باہر جو حالات ہیں وہ سب کے ہی سامنے ہیں بالخصوص ذبحہ خانہ چوک المعروف پرفیوم چوک کا حال ایسا ہے کہ گاڑیاں خالی ہوں یا بھری ہوئی بس دعائیں دیتی ہی نظر آتی ہیں بعض اوقات تو کچھ لوڈ گاڑیاں عقیدت کے جذبات میں سڑک کے درمیان ہی سجدہ ریز ہو جاتی ہیں محکمہ شاہرات ہو یا ٹاؤن کمیٹی سڑکوں کے معاملات میں دونوں ہی نااہل ہیں سڑک پہ پڑنے والے گڑھے مٹی سے بھی بھرنے میں اہلکار مکمل طور پہ نااہل ثابت ہوتے ہیں ہر جلسہ میں روڈز کے پروجیکٹس گنوائے جاتے ہیں جبکہ کہوٹہ بیور کی روڈ تو دور مٹور جو کہ سابقہ و موجودہ نمائندگان کے اپنے گھر کی سڑک ہے اس کا حال بھی ماشاء اللہ کہوٹہ کی ترقی کا بہترین عکاس ہے جنگلات کو دیکھا جائے تو جنگلات کی کٹائی بریگیڈئیر ر جاوید ستی جیسے نڈر محافظ کے ہوتے ہوئے بھی ابھی تک نہیں رک سکی اور لکڑی چور دیدہ دلیری سے اپنا کام کیے جا رہے ہیں منشیات کی طرف دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے کہوٹہ اور اس کے مضافات اور دور دراز کے دیہاتی علاقے منشیات فروشوں اور منشیات کے عادی افراد کی جنت بن چکے ہیں۔الغرض کہوٹہ ضلع راولپنڈی کی سب سے پسماندہ تحصیل ثابت ہو رہی ہے اور اس کے ذمہ دار ہمارے ممبران اسمبلی اداروں کے سربراہان اور اشرافیہ اور بالخصوص وہ سفید پوش طبقہ ہے جو ہرآنے والے الیکشن میں اپنے مفادات کی نئی سمت متعین کرتا ہے اور ہماری عوام ان کو اپنا مقامی نمائندہ اور چاچا ماما سمجھتے ہوئے آمین کر کے پھر سے لٹ جاتے ہیں۔ مسائل اتنے ہیں کہ لکھنے پہ آئیں تو دن مہینے کم پڑ جائیں۔اللہ اس ارضِ پاک کا حامی و ناصر ہو آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں