بیول گرلز سکول میں سہولیات کا فقدان

ہم بحیثت ایک ترقی پذیر قوم ہونے کے ناطے اگر ترقی یافتہ اقوام کی ترقی کا مشاہدہ کریں تو ان سب میں ایک بات مشترک نظر آتی ہے کہ ایمانداری‘محنت اور لگن کے علاوہ ان ممالک نے اپنی ایجوکیشن پر بھرپور توجہ دی اپنا تعلیمی معیار بہتر بنایا اور ترقی کی منازل طے کرتے چلے گئے ہماری بدقسمتی رہی کہ قیام پاکستان کے چند ہی برسوں بعد وطن عزیز کرپٹ لوگوں نے نرغے میں آگیا جنہوں نے باہم مل کر آزادی کے ثمرات اس طرح سمیٹے کہ بزور طاقت اختیار واقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے تمام ملکی اداروں کو یرغمال بنا لیا ہر جانب کرپشن سرایت کرگئی۔آہستہ آہستہ کرپشن کا اژدھا سب کچھ نگل گیا ہر آنے والی حکومت جانے والوں کو کرپٹ قرار دے کر بری الذمہ ہوتی رہی۔لیکن درد کی دوا نہ کی جاسکی۔ترقی کی پہلی سیڑھی اپنی نسلوں کو تعلیم سے آراستہ کرنا ہوتا ہے۔لیکن گذشتہ چوہتر سالوں میں گیارہ گیارہ برس حکمرانی کرنے والے ڈکٹیٹرز اور سویلین حکمرانوں نے تعلیمی شعبے پر توجہ نہیں دی اور تعلیم کی بہتری کے لیے اب بھی کچھ نہیں کیا جارہا اسکول کالجز بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ملک بھر کی طرح بیول میں قائم تعلیمی ادارے بھی سرکاری توجہ سے محروم مشکلات کا شکار ہیں۔بیول گرلز پرائمری اسکول ماہ وسال گذرنے کے ساتھ ساتھ اپ گریڈ تو ہوتا رہا لیکن ساتھ ساتھ مشکلات کا شکار بھی رہا۔4 کنال 5 مرلے پر محیط گرلز ہائر سکینڈری اسکول 1951 میں بطور پرائمری اسکول وجود میں آیا۔1972 میں اسے مڈل کادرجہ دے کر اپ گریڈ کیا گیا۔1983 میں ہائی اسکول اور 2008 میں اسے ہائر سیکنڈری اسکول میں اپ گریڈ کردیا گیا۔اسکول میں 29 ٹیچرز اور گیارہ سو سے زائد طالبات زیر تعلیم ہیں۔23سیکشن ہیں پہلے اوردوسرے فلور پر تعمیر کمروں کی کل تعداد سترہ ہے جن میں سے دس کمرے کلاس رومز کے طور پر استعمال کیے جارہے ہیں بچیوں کی تعداد زیادہ اورکمروں کی کمی کے باعث روزانہ کی بنیاد پر دوکلاسیں برآمدے میں لگائی جاتی ہیں جو روزانہ بدل دی جاتی ہیں۔اسکول کی پرنسپل میڈیم نسرین قمر نے پنڈی پوسٹ سے بات چیت کے دوران بتایا کہ 2017 میں بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اسکول کے چار کمرے خطرناک قرار دے کر انہیں منہدم کردیا تھا جو بعد ازاں 2018 میں چار کے بجائے دو کمرے تیار کیے گئے۔کمروں کی شارٹیج کے باعث داخلے کے لیے آنے والوں کو انکار کیا جاتا ہے۔اسکول میں اسپورٹس کا سامان موجود لیکن گراؤنڈ ناپید ہے۔میڈیم نسرین قمر کا کہنا تھا کہ ایم پی اے جاوید کوثر بھی اسکول کے مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔پرنسپل کا نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر علاقے کے صاحب حیثیت افراد اسکول سے ملحقہ دوکانیں خرید کر اسکول کو ڈونیٹ کردیں تو معاملات میں بہتری آسکتی ہے۔ اسکول میں صرف ایک ہی سائنس ہال ہے جسے نویں دسویں اور فرسٹ وسیکنڈ ایئر کی طالبات مشترکہ طور استعمال کرتی ہیں اس سے بھی کافی دقت کا سامنا ہے ایک کلاس روم کو لیب کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ماڈل اسکول والوں نے ایک کمرہ 2020 میں تعمیر کیا جیسے لائبریری طور استعمال کیا جا رہا ہے۔صفائی کے حوالے سے اسکول میں سرکاری سطح پر سوئیپر تک موجود نہیں اور اسکول کا عملہ اپنی مدد آپ کے تحت اپنی تنخواہوں سے رقم کی ادائیگی سے سوئیپر کو تنخواہ دے کے صفائی کا نظام چلا رہے ہیں۔ارباب اختیار اور محکمہ ایجوکیشن پنجاب کو بیول گرلز ہائر سکینڈری اسکول کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے فوری توجہ دینا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں