اقبال زرقاش
روحانیت کی سرزمین گولڑہ شریف ایک بار پھر سوگوار ہے۔ حضرت پیر سید مہر فرید الحق گیلانی کی رحلت کی خبر نے عقیدت مندوں کے دلوں کو غم سے نڈھال کر دیا ہے۔ یہ صرف ایک شخصیت کا بچھڑنا نہیں بلکہ ایک عہد کا اختتام محسوس ہوتا ہے ایک ایسا عہد جس میں محبت، رواداری اور انسان دوستی کی خوشبو ہر سمت پھیلی ہوئی تھی۔
پیر مہر فرید الحق گیلانی ایک ایسے خانوادے کے چشم و چراغ تھے جس کی تاریخ خدمتِ دین، اشاعتِ تصوف اور عشقِ رسول ﷺ سے عبارت ہے۔انہوں نے اپنے اسلاف کی روایات کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق انہیں زندہ بھی رکھا۔ ان کی شخصیت میں درویشی، انکساری اور شفقت کا ایسا حسین امتزاج تھا جو کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ان کی محفلیں محض مذہبی اجتماعات نہیں ہوتیں بلکہ وہ روحانی تربیت گاہیں تھیں جہاں دلوں کی اصلاح ہوتی، نظریات میں توازن آتا اور انسان اپنے خالق سے تعلق کو مضبوط کرنے کا ہنر سیکھتا۔
وہ لوگوں کو جوڑنے والے انسان تھے نہ کہ تقسیم کرنے والے۔ ان کا پیغام سادہ مگر گہرا تھا: محبت کرو، آسانیاں پیدا کرو اور نفرتوں کو ختم کرو۔آج جب معاشرہ شدت پسندی، عدم برداشت اور فکری انتشار کا شکار ہے، ایسے میں پیر مہر فرید الحق گیلانی جیسی شخصیات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان کا طرزِ فکر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل دین تنگ نظری نہیں بلکہ وسعتِ قلبی کا نام ہے۔

ان کی رحلت یقیناً ایک بڑا خلا ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اہلِ دل کبھی مکمل طور پر رخصت نہیں ہوتے۔ وہ اپنے کردار، اپنی تعلیمات اور اپنے اندازِ محبت کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کے چھوڑے ہوئے مشن کو سمجھیں اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔
گولڑہ شریف کی فضا آج اداس ضرور ہے، مگر یہ اداسی ایک پیغام بھی لیے ہوئے ہے کہ چراغ بجھتے نہیں، روشنی منتقل ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمتِ کاملہ میں جگہ عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔