تھانہ اٹک خورد کے معروف مقدمہ نمبر 151/26 میں، جس میں آصف اور فیضان کو مبینہ طور پر چھ افراد نے اغواء کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں تشدد کی ویڈیو سماجی ذرائع پر پھیلا دی تھی، مقدمے کے مدعی اور متاثرہ افراد کی جانب سے شیخ احمد آزاد صدیقی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ عدالتِ عالیہ، عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ شیخ احمد آزاد صدیقی نے ملزمان کی درخواستِ ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں قانونی نکات اور دلائل پیش کیے۔ عدالت نے پیش کیے گئے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے 11 جون 2026ء کو جناب فواد محمود کی عدالت سے ملزمان کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔
متاثرہ افراد اور ان کے اہلِ خانہ نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مقدمہ حق و انصاف کے تقاضوں کے مطابق اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا۔
اس موقع پر ایڈووکیٹ شیخ احمد آزاد صدیقی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“میں ہر مظلوم کے حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتا رہوں گا۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور میری کوشش ہے کہ ہر متاثرہ شخص کو قانون کے مطابق بروقت اور مؤثر انصاف میسر آ سکے۔”