آئمہ کرام کے وظائف‘پنجاب حکومت کا احسن اقدام

ساجد محمود
پنجاب حکومت کی جانب سے لاؤڈ سپیکر ایکٹ کے تحت لوڈ سپیکر کے غیر ضروری استعمال پر پابندی کے احکامات جاری ہو چکے ہیں اور اب صوبہ پنجاب میں لاؤڈ سپیکر سے نفرت‘ گروہ بندی‘ فرقہ واریت اور اشتعال انگیزی پھیلانے والے قانون کے شکنجے میں ہوں گے دوسری طرف پنجاب کی مساجد میں تعینات 65 ہزار آئمہ کرام کے وظائف کے لئے صوبے بھر کی مساجد کی ڈیجیٹل میپنگ بھی شروع کر دی گئی ہے اور ہر تحصیل میں محکمہ مال کے اہلکار ائمہ کرام کے کوائف کا اندراج کرنے کی زمہ داری نبھا رہے ہیں۔

آئمہ کرام کے وظائف کا اندراج شفاف انداز میں مکمل کیاجائے گا اب امام مسجد کی تصدیق کا عمل شروع ہو چکا ہے جس میں سپیشل برانچ کے اہلکاروں کے زریعے مساجد میں تعینات امام مسجد کے سابقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال ہوگی تصدیقی عمل سے گزرنے کے بعد معیار پر پورے اترنے والے آئمہ کرام کو حکومت پنجاب کی جانب سے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے گا۔حکومت کے اس اقدام کو عوامی حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے کیونکہ ایسے اقدامات سے مساجد میں مختلف مکتبہ فکر کے مابین ہم آہنگی کے فروغ میں مدد ملے گی ہونا تو یہ چاہیے کہ مساجد میں اسلام کے اصل تشخص کو اجاگر کیا جائے والدین کا احترام‘ حرام سے بچنے کی ترغیب‘ بڑوں کی عزت‘ معاشرتی روابط کا فروغ‘ احکامات قرآن مجید کی روشنی میں مسلم امہ کی رہنمائی جیسا فریضہ سر انجام دینا ائمہ کرام کی اولین ترجیح ہونی چاہیے مگر اس مقدس پلیٹ فارم کو اکثر اوقات مسلکی تفرقہ بازی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف بھی کاروائی کا عندیہ دیا ہے اور پنجاب میں عنقریب غیر قانونی یعنی بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے یا چھپانے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا آغاز ہونے جا رہا ہے اسکے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اشتعال دلانے والے نفرت انگیز مواد کی نگرانی کے لیے سپیشل یونٹس بھی فعال کر دیئے گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر شرپسندوں کی نگرانی کی جا جاری ہے حکومت پنجاب کے حالیہ اقدامات سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اب انتشار پھیلانے والوں کیساتھ حکومت آہنی ہاتھوں سے نپٹنے گی مساجد عبادت کیلئے مخصوص ہیں اب مساجد میں مسلکی اختلاف کو ہوا دے کر مخلوق خدا کے مابین نفرتوں کی راہ ہموار کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہو گی اور نہ ہی اسلام اسکی اجازت دیتا ہے حکومت پنجاب کی جانب سے ایسے اقدامات کا مقصد مذہب کی آڑ میں تفرقہ بازی کو روکنا ہے۔

اب پنجاب میں مذہبی جماعتیں ضابطہ اخلاق کے اندر رہ کر ہی دینی امور سرانجام دے سکتی ہیں وزیراعلی پنجاب کے یہ اقدامات قابل ستائش ہیں اور یہ اقدامات اگر نوے کی دہائی میں ہی اٹھا لیے جاتے تو آج حالات اس نہج پر نہ پہنچتے، غیر قانونی اسلحہ کی روک تھام کیلئے بھی پنجاب حکومت کی جانب سے ڈیڈ لائن دی گئی ہے اور غیر قانونی اسلحہ سرینڈر کرنے میں تعاون کرنے والے حضرات کیساتھ نرمی برتی جائے گی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے یا چھپانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز ہو گا

اسکے ساتھ پنجاب حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی سہولت کاری اور انکو مدد فراہم کرنے پر بھی سزا کا اعلان کیا ہے سوشل میڈیا پر نفرت جھوٹ اور اشتعال پھیلانے والوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز مواد کی نگرانی کے لیے اسپیشل یونٹس فعال کر دئیے گئے ہیں جو اشتعال انگیز مواد کی اشاعت پر متعلقہ اشخاص کے خلاف کاروائی کرینگے

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ
پنجاب امن کا گہوارہ ہے اسے انتشار کا میدان نہیں بننے دیا جائے گا پنجاب میں امن و امان کا قیام حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے حکومت پنجاب صوبہ بھر میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہے اور شرپسند عناصر اور امن دشمنوں کیخلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جا رہی ہے معاشرہ میں امن و امان کیلئے خطرہ بننے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔