تحریر:مرزا پرویز اختر کیانی
آج ایسی شخصیت کے متعلق قلم اٹھا رہا ہوں جن کے بارے میں لکھنا آسان نہیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ان کی شان صیح طور پر بیان نہ کر سکوں یہ شخصیت ہیں جناب میجر جنرل قمر علی مرزا صاحب ہے جو راولپنڈی کے موضع آراضی سوہال میں پیدا ہوئے اور پرا ئمری تک تعلیم قریبی گاؤں موہڑہ بھٹا ں سے حاصل کی۔
1931میں اپنے والد محترم جناب ایس ۔ پی مرزا باقر خان صاحب کے پاس تعلیم کے سلسلہ میں لاہور تشریف لے گئے ۔اسلامیہ کالج لاہور سے ایف ۔ ایس ۔ سی کا امتحان امتیازی پوزیشن میں پاس کیا ۔ اب میں وہ انکشاف کر رہا ہوں جس کا بہت کم لوگوں کو علم ہے ۔ وہ یہ کہ قمر علی مرزا صاحب نے 1941میں ویت نری کالج لاہور سے سلور میڈل کے ساتھ میڈیکل ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کی ۔ لیکن اانھوں نے کھبی نام کے ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھا ۔ شاہد اس لیے کہ مرزا صاحب ۱۹۴۳ میں برٹش آرمی کی اے ۔ایس ۔ سی کور میں بطور کمیشن آفیسر بھرتی ہو گئے اور جناب بطور ڈاکٹر پریکٹس نہ کر سکے ۔ بہت اصول پسند ، خود دار ، اور درویش انسان تھے ۔ مجھ ناچیز کو بھی کافی قرب حاصل تھا اور بہت کچھ سیکھنے کا موقح ملا ۔ الخمد للہ ۔ قمر علی مرزابطور لیفٹینیٹ پہلی ٹرانسفر پر برما أے اور دوسری عالمی جنگ میں مسلسل دو سال نمایاں کاکردگی دکھائی اور مختلف میڈل حاصل کیے۔
1945میں چکلالہ راولپنڈی پوسٹنگ ہوئی۔ 1946 میں اپنے خاندان میں شادی ہوئی۔ 1946تا1949 تین سال بطور کپتان پی ۔ ایم ۔ اے کاکول خدمات سر انجام دیں ۔1953 میں سٹاف کالج کؤٹہ گولڈ میڈل کے ساتھ کورس مکمل کیا اور ساتھ ہی اللہ جلہ شان نے آپ کو پہلا بیٹا عطا فرمایا ۔ جس کا نام مرزا سہیل احمد رکھا گیا ۔جو آج اپنے والد محترم کی آخری نشانی ہیں ۔ اور بہت خوب ہیں ۔ والد صاحب کی طرح درویش۔ ماسٹر کرنے کے بعد اپنا اسکول بحوبی چلا رہے ہیں ۔ خدا انیں لمبی عمر عطا فرمأے 1953 میں میجر کے رینک پر ترقی پائی اور پی ۔ او ۔ ایف واہ چیر مین کی حیثیت سے تین سال اعلیٖ کارکردگی کیساتھ میڈلذ بھی حاصل کیے 1961میں فورٹ لیمن ورتھ امریکہ پروفیشنل کورس پہلی پوزیشن میں پاس کیا۔
جہاں دنیا کے ممالک کورس کرنے آتے ہیں ایسی جگہ گولڈ میڈل حاصل کرنا بڑے اعزاز کی بات ہے ۔ 1965کی جنگ میں چھم جوڑھیاں کے محاذ پر دشمن کا جواں مردی سے مقابلہ کیا ۔1966 میں سٹاف کالج کوئٹہ سے کورس کرنے کے بعد جی ۔ ایچ ۔ کیو اور 1973میں آخری ٹرانسفر پی ۔ او ۔ ایف واہ چیر مین رہے ۔ اور1975 میں میجر جنرل کے عہدہ پر ریٹائرڈ ہوئے ۔ آرمی سروس کے دوران کم و پیش ۱۲ میڈل جنرل صاحب کو عطا کیے ئے ۔ جنرل قمر علی مرذا ( مرحوم و مغفور ) کا نام گرامی آج بھی نہ صرف پاک آرمی میں بلکہ ز ندگی کے ہر طبقے میں عز ت و احترام سے لیا جاتا ہے ۔ جنرل صاحب کے ریٹائرمنٹ کے بعد کے حالات و واقعات کے بارے میں انشأ اللہ پھر کبھی قلم بند کروں گا ۔{jcomments on}
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.