سچ تو یہ ہے/ عاطف کیانی

گزشتہ دنوں شام میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں زخمی ہونے والے شامی بچے کی تصویر سوشل میڈیا پر نظرآئی بعد میں یہ بچہ جان کی بازی بھی ہار گیا۔ اس واقعہ کی وجہ سے کئی لوگوں کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے بھی اسی طرح ایک شامی بچے کی لاش سمندر کے ساحل سے ملی اس کے علاوہ بھی سینکڑوں کی تعداد میں ایسے بچے ہیں جو خانہ جنگی کے دوران ہونے والی بمباری کا شکار ہوئے ۔اگر غور کیاجائے تو بچوں کی ان ہلاکتوں کا سلسلہ امریکہ کا افغانستان پر حملے سے شروع ہوا ۔ افغانستان میں بھی امریکی بمباری سے بے شمار ہلاکتیں ہوئیں ۔ غرض پاکستان بم دھماکوں اور امریکی ڈرون حملوں کی وجہ سے بھی عورتوں اور بچوں سمیت کئی بے گناہ لوگوں کی جانیں چلی گئیں ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اکثر مسلمان ممالک یا مسلمان بچوں اور عورتوں پر ہی ایسا ظلم کیوں ہو رہا ہے ۔ میانمار (برما) میں کئی مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا‘ کشمیر ‘ فلسطین‘ یمن‘ عراق میں بھی یہی ہو رہا ہے ۔ مسلمانوں اور خاص کر کے مسلمان حکمرانوں کو سوچنے اور مل بیٹھ کر اس کا کوئی حل نکالنے کی ضرورت ہے ۔ فرانس میں ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کے بعد امریکہ کے صدر کا یہ بیان تھا کہ فرانس میں ہونے والا دہشت گردی کا واقعہ انسانیت پر حملہ ہے مگر افغانستان‘ عراق ‘ کشمیر و فلسطین میں مسلمانوں پر روز بروز ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں کیا انہیں وہاں انسانیت کا قتل نظر نہیں آتا۔ افغانستان اور عراق میں امریکی بمباری سے ہزاروں کی تعداد میں بے گناہوں کی جانیں لے لینا اور اس پر کوئی ندامت بھی نہ ہونا کیا یہ زیادتی اور انسانیت کا قتل نہیں ۔مسلمانوں کے خلاف قتل عام کی اس مہم میں عالمی ادارے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔اگر یورپ یا امریکہ میں کوئی واقعہ ہو جائے تو عالمی ادارے بشمول اقوام متحدہ کے ادارے بھی فوراََ حرکت میں آجاتے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے بھی آج تک مسلمانوں کے مسائل کی جانب کوئی توجہ نہیں دی ۔اور یہ ادارہ جو اقوام کو آپس میں متحد رکھنے کیلئے بنایا گیا تھا یورپی ممالک اور امریکہ کے ہاتھ میں ایک کٹ پتلی کے سوا کچھ نہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ کچھ ایسی طاقتیں ہیں جو مسلمانوں کو اور مسلم ممالک کو پھلتا پھولتا دیکھنا ہی نہیں چاہتیں اس لیے مختلف حیلوں بہانوں سے ان کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتی ہیں ۔ ان سب باتوں کے باوجود اس قسم کے حالات مسلم ممالک کے اپنے پیدا کردہ بھی ہیں کیونکہ مسلمان حکمران عرصہ ہوا خواب خرگوش کے مزے لے رہیں ہیں اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی بھی صرف نام تک محدود ہے کیونکہ اس نے آج تک کوئی عملی کام نہیں کیا صرف کاغذی کاروائی تک اور مذمتی قرارداد یں منظور کرنے تک محدود ہے گزشتہ کچھ عرصہ سے یمن اور شام میں حالات انتہائی خراب ہیں خانہ جنگی کی وجہ سے یہ ممالک کھنڈرات میں بدل رہے ہیں ۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ اب جو ممالک باقی بچ گئے تھے ان میں بھی سازشی عناصر داخل کر کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ترکی میں فوج کی بغاوت اور بم دھماکوں سے یہی نظر آرہا تھاکہ اسلام دشمن کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو کمزور کرنے کیلئے جس طرح کے اقدامات کر سکتے ہیں وہ اپنا کام کر رہے ہیں ۔ شام و عرا ق جو ایک وقت مسلمانوں کے علمی اور ثقافتی مرکز ہو اکرتے تھے آج وہاں لوگوں کو سرچھپانے کی جگہ نہیں مل رہی وہاں مساجد اور دیگرمقدس مقاما ت کو بھی نقصان پہنچا ان سب واقعات کی وجہ کیا ہے وہ یہ کہ یہود و نصاریٰ تو مسلمانوں کے دشمن ہیں ہی مگر سچ تو یہ ہے مسلمان سو رہے ہیں ۔{jcomments on}

اپنا تبصرہ بھیجیں