اٹک (نمائندہ پنڈی پوسٹ) نوکری کا جھانسہ، گینگ ریپ کی جھوٹی کہانی اور بلیک میلنگ کا مکروہ کھیل بے نقاب ہو گیا۔ ہنی ٹریپ گینگ کا چونکا دینے والا راز فاش کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ باہتر سب انسپکٹر علی راشد اعوان نے کارروائی کرتے ہوئے گینگ ریپ کی جھوٹی اطلاع دینے اور ہنی ٹریپ کے ذریعے شہریوں کو بلیک میل کرکے رقم بٹورنے والی دو رکنی خواتین گینگ کو گرفتار کر لیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق تھانہ باہتر پولیس کو 15 پر گینگ ریپ کی اطلاع موصول ہوئی، جس پر پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔ تاہم دورانِ تفتیش اور دستیاب شواہد کی جانچ پڑتال کے بعد یہ اطلاع جھوٹی ثابت ہوئی۔
مزید تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ مسماۃ نبیلہ اختر اور اس کی ساتھی خاتون شہریوں کو ہنی ٹریپ کے ذریعے اپنے جال میں پھنساتی تھیں اور بعد ازاں مختلف الزامات لگا کر انہیں بلیک میل کرتے ہوئے رقم وصول کرتی تھیں۔
پولیس کے مطابق تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ دونوں خواتین اس سے قبل بھی مختلف تھانوں میں اسی نوعیت کے مقدمات درج کروا چکی ہیں۔ تھانہ باہتر پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔
ترجمان اٹک پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار خواتین کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کرکے عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ مزید تفتیش بھی جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ پہلوؤں کو بھی سامنے لایا جا سکے۔
ترجمان اٹک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی نامعلوم شخص کے جھانسے میں آنے سے گریز کریں اور مشکوک سرگرمیوں کی صورت میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
“شہری ہوشیار رہیں، کیونکہ ہنی ٹریپ صرف جیب ہی نہیں بلکہ عزت اور سکون بھی داؤ پر لگا سکتا ہے۔”