جس پلیٹ میں کھاؤ اُس میں چھید نہ کرو

پنڈی پوسٹ کے ساتھ دفتری رفاقت کا 14 سال پر محیط سفر اختتام کو پہنچا۔ یہ دن، مہینے اور سال جیسے چند لمحات میں بیت گئے۔ ناچیز آج جو کچھ بھی ہے، وہ پنڈی پوسٹ کے بانی اور عظیم رہنما عبدالخطیب چودھری صاحب کی وجہ سے ہے، جنھوں نے شعبہ صحافت میں میری انگلی پکڑ کر قدم قدم پر نہ صرف رہنمائی کی بلکہ میری عملی زندگی کی تعمیر میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ میری زندگی کا بہترین اور خوبصورت ترین حصہ تھا جہاں مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔زندگی کے اس طویل حصے میں بہت سے نشیب و فراز آئے مگر ہمیشہ ایک نئی امنگ اور نئے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کا سبق بھی ملا یہی وجہ ہے کہ پنڈی پوسٹ میں میرا ”کمپوزنگ“ سے شروع ہو نے والے سفر ”ایڈیٹر“پر ختم ہوا۔الحمد اللہ رب العالمین!

اس میں یقینا میرااپنا کوئی کمال نہیں تھا یہ سب اللہ تعالیٰ کی مدد اورادارے کی مہربانی سے ممکن ہوا۔گزشتہ روز بڑے بھائی مرزا ولید رضا اور ننھے بھتیجے ضوریز ولید کے ہمراہ پنڈی پوسٹ پہنچا تو وہیں پر کٹھن وقتوں میں بہترین رہنما ساتھی عبدالجبار چوہدری صاحب کے ساتھ بھی ملاقات ہو گئی،جس کے بعد یہ نشست اور خوبصورت ہو گئی،عبدالخطیب چودھری صاحب نے ہمیشہ کی طرح والہانہ انداز میں استقبال کیا اور ہم سب گپ شپ کے لیے بیٹھ گے۔اس سے قبل راجہ شیراز اختر،سردار احسان الحق اور محمد عثمان ودیگر سٹاف نے بھی پرجوش انداز میں خوش آمدید کہا۔ایک یادگاری شیلڈ اور چند تحائف ادارے کے بانی عبدالخطیب چودھری صاحب کو پیش کرنے کا شرف حاصل ہوا جو یقینا ان کے شایان شان نہیں مگر بقول شاعر
یہ تو بس ایک چھوٹی سی سوغات ہے
ٓآپ کی محبت اور خلوص ہی اصل کائنات ہے!
مجھے یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ 14سالوں کے دوران ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جو ذمہ داریاں مجھے سونپی گئیں میں نے تہہ دل،خلوص نیت کے ساتھ اپنا کام سر انجام دینے کی کوشش کی،جہاں پر کوئی کمی بیشی رہی تو ٹیم ورک کے دوران اسے بھی ختم کر دیا گیا۔

اس سفر کے دوران بہت سارے حالات و واقعات پیش آئے جنھیں یہاں بیان کرنا شروع کروں تو یہ تحریر بہت طویل ہو جائے گی میں یہاں پر صرف دو باتوں کا ذکر کروں گا۔ایک واقعہ ایسا ہے جس نے میری زندگی کا رخ منزل کی جانب موڑا،واقعہ کی تفصیل میں جائے بغیر مختصر یہ کہ ”میرے کام کی قیمت لگی اور میں بکا نہیں“۔یہ انکشاف آپ سب کے لیے نیا ہو گا لیکن میں سچ بتاؤں تو اُس وقت میرا سر سجدے میں تھا اور خدائے تعالیٰ کی بارگاہ میں شکر گزار تھا جس نے مجھے سمجھ اور شعور دیا اور میں نے اپنے ادارے کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا میں نے اس عرصہ کے دوران بہت ساروں کی بولیاں لگتے دیکھیں اور بہت ساروں کو شہرِ کاروبار میں بِکتے بھی دیکھا (ایک کہاوت مشہور ہے جس تھالی میں کھاتے ہیں اُس میں کبھی چھید نہیں کرتے)اور پھر کامیاب بھی وہی ہوتے ہیں جو چھید نہیں کرتے یعنی کہ انسان جس جگہ، ادارے، یا رشتے سے فائدہ اٹھائے، اسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے یا جس سے روزی کمائے، اسی کی جڑ نہیں کاٹنی چاہیے۔

ٹیم کے ساتھ تعلق فیملی کی طرح اب بھی قائم ہے سادہ الفاظ میں یوں کہوں تو یہ دفتر نہیں میرا دوسرا مسکن تھا جہاں اٹھنے بیٹھنے،کھانے پینے، وقت گزارنے اور دوستوں کے ساتھ میل ملاپ بھی ہوجاتا ہے۔دوسرا واقعہ یا یوں کہہ لیں زندگی کا سب سے بڑا صدمہ چند ماہ قبل میرے والد محترم کی وفات کا تھا، جو ہم پر پہاڑ بن کر گرا۔ لیکن خدائے برحق نے جہاں مجھے صبر اور حوصلہ دیا، وہاں ایسے عظیم دوستوں اور ساتھیوں سے بھی نوازا جنھوں نے ہر مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا۔ والد صاحب کی وفات پر ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں کی تعداد میں احباب نے میرے گھر آکر جس طرح میری اور میری فیملی کی ڈھارس بندھائی، دلاسہ دیا اور مجھے سنبھالا، میں اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔اپنی مٹی سے ہزاروں میل دور بیرون ملک قیام پذیر دوست اور چاہنے والے بھی شامل ہیں جو اب تک کالز اورمیسجزکر کے کڑے وقت میں حوصلہ دیتے ہیں۔ میں فرداً فرداً دل سے تمام دوست احباب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

میں پنڈی پوسٹ کی پوری ٹیم، اپنے تمام مخلص ساتھیوں اوربالخصوص عبدالخطیب چودھری صاحب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں اور آپ سب کے لیے دعا گو ہوں۔ ادارتی سفر بھلے ختم ہو گیا ہو، لیکن دلوں کایہ رشتہ ہمیشہ قائم رہے گا اور پنڈی پوسٹ کے لیے میری خدمات تادم حیات حاضر رہیں گی۔