حفصہ اقبال
یہ کیسی ترقی ہے جس پر ہم فخر کرتے نہیں تھکتے؟ یہ کیسی تہذیب ہے جسے ہم مہذب ہونے کا نام دیتے ہیں؟ انسان نے چاند کو فتح کر لیا، خلا کی وسعتوں میں اپنی پہچان بنا لی، مگر اپنے ہی گھر کی دہلیز پر کھڑی ایک عورت کو آج تک آزاد نہ کر سکا۔
ہم کہتے ہیں دنیا بدل گئی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف نقشے بدلے ہیں، ذہن نہیں۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمیٹ دیے، مگر عورت اور انصاف کے درمیان فاصلے آج بھی ویسے ہی ہیں۔ ہم نے مشینوں کو بولنا سکھا دیا، مگر عورت کی آواز سننے کی ہمت آج بھی پیدا نہ کر سکے۔
آج بھی عورت کو غیرت کے نام پر مار دیا جاتا ہے، روایت کے نام پر جکڑ دیا جاتا ہے، اور عزت کے نام پر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ اس کے خواب اس کی آنکھوں میں ہی دفن کر دیے جاتے ہیں، اس کی خواہشات کو گناہ بنا دیا جاتا ہے، اور اس کی ہنسی تک کو حدود میں قید کر دیا جاتا ہے
یہ کیسی دنیا ہے جہاں ایک عورت کی پہچان اس کی اپنی نہیں ہوتی؟ وہ ہمیشہ کسی کی بیٹی، کسی کی بہن، کسی کی بیوی کہلا کر اپنی ذات کھو دیتی ہے۔ اس کی زندگی پر فیصلے وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کے درد کو کبھی محسوس ہی نہیں کرتے۔
ہم نے چاند پر قدم رکھا، مگر اپنے اندر کے اندھیرے ختم نہ کر سکے۔ ہم نے کائنات کو جیت لیا، مگر اپنی سوچ کی قید سے آزاد نہ ہو سکے۔ عورت پر ظلم صرف ایک فرد کا جرم نہیں، یہ پورے معاشرے کی خاموش رضامندی کا نتیجہ ہے۔

یہ خاموشی سب سے بڑا جرم ہے۔ یہ وہ زنجیر ہے جو ہر اس ہاتھ میں ہے جو ظلم دیکھ کر بھی کچھ نہیں کہتا۔ جب ایک عورت کی آواز دبائی جاتی ہے تو دراصل انسانیت کا گلا گھونٹا جاتا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے جھوٹے فخر کو دفن کریں اور سچ کا سامنا کریں۔ ترقی عمارتوں، سڑکوں اور سائنسی کامیابیوں کا نام نہیں، ترقی اس دن ہوگی جب ایک عورت بغیر خوف کے جی سکے گی، اپنے فیصلے خود کر سکے گی، اور عزت کے ساتھ زندہ رہ سکے گی۔
آج وقت ہے کہ ہم خود سے سوال کریں: کیا واقعی ہم ترقی یافتہ ہیں؟ یا صرف ترقی کا دکھاوا کر رہے ہیں؟