راولپنڈی (نمائندہ پنڈی پوسٹ )راولپنڈی کے نواحی علاقے تھانہ روات کی حدود میں بااثر افراد کی مبینہ غنڈہ گردی کا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں مسلح افراد نے گھر میں گھس کر شہری پر تشدد کرنے کے ساتھ ساتھ تعمیراتی کام میں توڑ پھوڑ بھی کی۔ پولیس کی جانب سے تاحال مقدمہ درج نہ کیے جانے پر متاثرہ خاندان نے انصاف کے لیے اعلیٰ حکام سے رجوع کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق گاؤں بیروالیاں کے رہائشی شفیق احمد ولد محمد بنارس نے الزام عائد کیا ہے کہ 10 مارچ 2026 کو وہ اپنے گھر کی چھت پر تعمیراتی کام کروا رہے تھے کہ اسی دوران دو پجارو گاڑیوں میں سوار 12 سے 13 مسلح افراد زبردستی ان کے گھر میں داخل ہو گئے۔ نامزد ملزمان میں بابر زمان، یاسر زمان، سہیل اشرف، زیشان طاہر، شہزاد اور یوسف سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔
متاثرہ شہری کے مطابق ملزمان نے آتے ہی گھر میں جاری تعمیراتی کام کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔ جب انہوں نے واقعہ کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو ملزمان نے ان سے موبائل فون چھین لیا اور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ الزام ہے کہ سہیل اشرف نے ان کے سر پر اینٹ ماری جبکہ زیشان طاہر نے بائیں بازو پر وزنی پتھر دے مارا جس کے باعث ان کا بازو کہنی سے اتر گیا اور فریکچر ہو گیا۔
واقعہ کے دوران شفیق احمد کے بھائی نصیر احمد جب موقع پر پہنچے تو انہیں بھی سڑک پر گرا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے اور ان کے سر پر گہری چوٹیں آئیں۔
متاثرہ شہری کے مطابق واقعہ کے فوری بعد ریسکیو 15 پر اطلاع دی گئی جبکہ انہیں طبی امداد کے لیے سول ہسپتال راولپنڈی منتقل کیا گیا جہاں میڈیکل رپورٹ بھی تیار کی گئی۔ بعد ازاں تھانہ روات میں تحریری درخواست جمع کروائی گئی، تاہم چار روز گزرنے کے باوجود مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
شفیق احمد نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے اصل میڈیکل رپورٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ میڈیکل کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کو فائدہ پہنچایا جا سکے، جو کہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
متاثرہ خاندان نے سٹی پولیس آفیسر (CPO) راولپنڈی، ریجنل پولیس آفیسر (RPO) راولپنڈی، آئی جی پنجاب، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کا فوری نوٹس لیا جائے، نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور تھانہ روات کے متعلقہ پولیس اہلکاروں کے کردار کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
متاثرہ شہری نے خبردار کیا ہے کہ اگر انصاف نہ ملا تو وہ اعلیٰ عدالتوں اور دیگر قانونی فورمز سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔