روات میں کرایہ داری ایکٹ کی چیکنگ یا شہریوں کی تذلیل؟ خواتین کو دھمکیاں، موقع پر “معاملہ حل” کے نام پر رقوم وصول کرنے کے الزامات

راولپنڈی کے نواحی علاقے تھانہ روات کی حدود میں کرایہ داری ایکٹ کی چیکنگ کے نام پر ہونے والی کارروائیوں نے شہریوں میں شدید تشویش اور خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ دن کے اوقات میں، جب گھروں کے مرد افراد ملازمت یا کاروبار کے سلسلے میں باہر ہوتے ہیں، پولیس اہلکار گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر خواتین، بچوں اور بزرگوں سے فوری طور پر کرایہ داری دستاویزات طلب کرتے ہیں اور کاغذات نہ ہونے کی صورت میں ایف آئی آر درج کرنے اور افراد کو تھانے لے جانے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔

پی اے ای سی کالونی کے مکینوں کے مطابق کئی گھروں میں صرف ضعیف یا بیمار خواتین موجود تھیں جنہیں قانونی طریقہ کار کا علم بھی نہ تھا۔ خواتین نے اپنے شوہروں سے فون پر رابطہ کیا جبکہ بعض مردوں نے پولیس سے بات کر کے یقین دہانی کرائی کہ وہ شام کو آ کر ریکارڈ پیش کر دیں گے، مگر اہلکاروں نے مبینہ طور پر فوری کاغذات دکھانے پر اصرار جاری رکھا اور سخت رویہ اختیار کیا۔ بعض شہریوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں کہا گیا کہ “ابھی کاغذات دکھائیں، ورنہ دیگر افراد کو ساتھ لے جایا جائے گا۔”

متاثرین نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ بعض مقامات پر اس چیکنگ کو مبینہ طور پر رشوت وصولی کا ذریعہ بنایا گیا، جہاں موقع پر معاملہ نمٹانے کے نام پر ہزاروں روپے وصول کیے گئے، اور یہ رقم اکثر پانچ ہزار روپے یا اس سے زائد بتائی جاتی ہے۔

سماجی و عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اور قانون پر عمل درآمد اپنی جگہ اہم ہے، تاہم اس عمل کو شہریوں کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر اور باقاعدہ طریقہ کار کے تحت انجام دیا جانا چاہیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کسی بھی علاقے میں چیکنگ سے قبل پیشگی اطلاع دی جائے، تاریخ مقرر کی جائے اور شہریوں کو دستاویزات جمع کرانے کے لیے مناسب وقت فراہم کیا جائے۔

شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور آئی جی پنجاب سے فوری نوٹس لینے، شفاف تحقیقات کرانے اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کی صورت میں ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد برقرار رہ سکے۔