مختار احمد سگھروی کی تصنیف آکھان

پنجابی آکھان صدیوں پر محیط لوک دانش اور عوامی شعور کا وہ نچوڑ ہیں جن میں نسلوں کے اجتماعی تجربات، سماجی رویّے، معاشرتی اقدار اور روزمرہ زندگی کی حکمت سمٹ آئی ہے۔ یہ آکھان محض چند الفاظ یا جملے نہیں بلکہ وہ زندہ صداقتیں ہیں جو وقت کے طویل امتحان سے گزر کر سامنے آئی ہیں۔ ان کی بنیاد مشاہدے، عقلِ عام اور عملی زندگی کے تجربے پر قائم ہے۔ پنجابی ادب کی فکری تشکیل، اسلوبی وسعت، تہذیبی شناخت اور لوک روایت کے تسلسل میں آکھان ہمیشہ ایک بنیادی اور مضبوط ستون کی حیثیت رکھتے آئے ہیں۔

معروف ادیب، شاعر، محقق اور ماہرِ تعلیم سابق ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ضلع اٹک راجا مختار احمد سگھروی نے اپنی تازہ تصنیف “آکھان” کے ذریعے اس قدیم اور مستند روایت کو نہ صرف محفوظ کیا ہے بلکہ اسے ایک باقاعدہ، منظم اور معتبر ادبی حوالہ بھی فراہم کیا ہے۔ اس کتاب میں ضلع اٹک کے علاقے جندال اور اس کے گرد و نواح میں رائج سینکڑوں پنجابی آکھان کو جمع کر کے محفوظ کیا گیا ہے، جو بلاشبہ ایک گراں قدر تحقیقی اور تہذیبی خدمت ہے۔ ماضی میں آکھان مختلف کتابوں اور تحریروں میں بکھری ہوئی صورت میں ضرور ملتے تھے، مگر ان کی منظم تشریح، معنوی توضیح اور فکری تجزیے کا فقدان نمایاں تھا، جس کے باعث قاری ان کے حقیقی مفہوم اور فکری گہرائی تک مکمل رسائی حاصل نہیں کر پاتا تھا۔ راجا مختار احمد سگھروی نے اس علمی اور ادبی کمی کو نہایت محنت، دیانت اور خوش اسلوبی کے ساتھ پورا کیا ہے۔

اس کتاب کی ایک نمایاں اور قابلِ توجہ خصوصیت یہ ہے کہ ہر آکھان کو اس کے اصل سیاق و سباق، معنوی پس منظر اور فکری پرتوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ان آکھان کی وضاحت پنجابی اور اردو دونوں زبانوں میں کی گئی ہے، جو اس کتاب کو تحقیقی، تدریسی اور مطالعاتی حوالے سے ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔ پنجابی، گھیبی، جندالی، ہندکو، پوٹھوہاری اور کیملپوری لہجوں میں رائج آکھان کو جس محبت، لگن، محنت اور علمی دیانت کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے، وہ پنجابی زبان کی وسعت، اس کے تہذیبی حسن اور علاقائی تنوع کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔

کتاب کی ادبی وقعت میں معروف ادیب و شاعر ناصر ملک کے ادارے “اُردو سُخن” نے معیاری طباعت اور خوبصورت اشاعت کے ذریعے نمایاں اضافہ کیا ہے۔ کتاب کا سرورق ناصر ملک صاحب نے خود تیار کیا ہے، جو سادگی اور معنویت کا حسین امتزاج ہے۔ بیک پیج پر بطور ناشر ناصر ملک صاحب کی آراء شامل کی گئی ہیں، جو کتاب کی فکری اور ادبی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔ کتاب کا فلیپ اوّل معروف شاعر، سینئر صحافی اور کالم نگار اقبال زرقاش نے تحریر کیا ہے، جبکہ فلیپ دوم ادیب، سینئر صحافی اور کالم نگار شہزاد حسین بھٹی کے قلم کی کاوش ہے۔

کتاب کا انتساب مصنف نے اپنی والدہ محترمہ بی بی معروف جان مرحومہ کے نام کیا ہے، جنہوں نے انہیں پنجابی زبان بولنا سکھائی اور اپنی مٹی سے محبت کا شعور دیا۔ اس انتساب کے ذریعے یہ کتاب محض ایک تحقیقی یا ادبی تصنیف نہیں رہتی بلکہ جذباتی وابستگی، تہذیبی ورثے اور ماں بولی زبان سے محبت کی ایک خوبصورت علامت بن جاتی ہے۔

اظہارِ تشکر کے حصے میں مصنف نے کتاب کی تکمیل پر اپنے تمام احباب اور معاونین کا خلوصِ دل سے شکریہ ادا کیا ہے، جن میں عزیزم شہزاد حسین بھٹی، اقبال زرقاش اور ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر محمد یوسف طائر (پنڈی گھیب) کے نام خصوصی طور پر شامل ہیں۔ مزید برآں، کتاب میں بعض اہلِ قلم کی آراء بھی شامل کی گئی ہیں، جن میں سینئر صحافی شہزاد حسین بھٹی اور معروف ادیبہ ارم ہاشمی کی رائے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ آراء اس تحقیقی کاوش کی ادبی قدر و قیمت اور فکری وزن کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔

یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ “آکھان” پنجابی زبان میں راجا مختار احمد سگھروی کی پہلی، جبکہ مجموعی طور پر چوتھی کتاب ہے۔ ضلع اٹک کی سطح پر یہ اپنی نوعیت کی پہلی جامع تصنیف ہے جس میں پنجابی آکھان کے ساتھ ان کی باقاعدہ تشریح، توضیح اور معنوی وضاحت بھی شامل کی گئی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری آکھان کو صرف پڑھتا ہی نہیں بلکہ ان کے فکری مفاہیم، سماجی معنویت اور عملی حکمت کو بھی پوری طرح سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

بلاشبہ “آکھان” پنجابی ادب، لوک دانش، تہذیبی شعور اور عوامی روایت کا ایک اہم اور قابلِ قدر اضافہ ہے۔ یہ کتاب زبان کی مٹھاس، مٹی کی خوشبو، وقت کے آزمودہ تجربات اور اجتماعی دانش کو یکجا کر کے ان ادبی خزانوں میں شامل ہو چکی ہے جو نہ صرف محفوظ کیے جاتے
تبصرہ: شہزاد حسین بھٹی