کشمیر پاکستان کی شاہ رگ

پانچ فروری یومِ یکجہتی کشمیر محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک وعدہ اور ایک زندہ احساس کا نام ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان کے گلی کوچوں، شہروں، دیہات اور ایوانوں میں ایک ہی صدا گونجتی ہے کہ کشمیر اکیلا نہیں۔ یہ دن کشمیری عوام کو یہ باور کروانے کے لیے منایا جاتا ہے کہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ وقتی، مفاداتی یا سفارتی مجبوری نہیں بلکہ تاریخ، عقیدے، قربانی اور مشترکہ خوابوں سے جڑا ہوا اٹوٹ رشتہ ہے۔کشمیر برصغیر کی تقسیم کا وہ نامکمل باب ہے جس پر وقت نے گرد تو ڈالی مگر سچ کو مٹا نہ سکا۔ تقسیمِ ہند کے وقت اقوامِ متحدہ کی قراردادوں نے کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دیا، مگر دہائیوں گزرنے کے باوجود یہ حق آج بھی طاقت کے زور پر دبایا جا رہا ہے۔ بھارتی تسلط، ریاستی جبر، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوششیں اور اظہارِ رائے پر پابندیاں کشمیریوں کی روزمرہ حقیقت بن چکی ہیں۔ ایسے میں یومِ یکجہتی کشمیر امید کی وہ شمع ہے جو ظلم کی آندھیوں میں بھی بجھتی نہیں۔

پاکستان نے ہر دور میں کشمیر کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون قرار دیا ہے۔ چاہے عالمی فورمز پر آواز بلند کرنا ہو، اقوامِ متحدہ میں قراردادوں کی یاد دہانی کرانا ہو، یا او آئی سی جیسے پلیٹ فارمز پر کشمیریوں کے حق میں سفارتی حمایت پاکستان نے اصولی موقف سے کبھی پسپائی اختیار نہیں کی۔ یہ حمایت محض بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ پاکستان نے کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے انسانی امداد، اخلاقی تائید اور سفارتی دباؤ کے تمام جائز ذرائع بروئے کار لائے۔یومِ یکجہتی کشمیر پر ملک بھر میں انسانی زنجیریں، سیمینارز، ریلیاں، دعائیہ اجتماعات اور خصوصی پروگرام اس بات کا ثبوت ہوتے ہیں کہ پاکستانی عوام کا دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ بزرگ ہوں یا نوجوان، خواتین ہوں یا بچے ہر طبقہ ایک آواز ہو کر کہتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ یہ محض نعرہ نہیں بلکہ ایک قومی شعور کی علامت ہے جس نے نسل در نسل خود کو زندہ رکھا ہے۔خصوصاً 5 اگست 2019 کے بعد، جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے یکطرفہ اقدامات کیے، پاکستان نے اس غیر قانونی فیصلے کو ہر سطح پر چیلنج کیا۔

اس اقدام نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ کشمیر کا مسئلہ دوطرفہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی مسئلہ ہے۔ پاکستان نے مسلسل عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا، میڈیا کو متحرک کیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو زمینی حقائق سے آگاہ کیا۔پاکستانی عوام کی یکجہتی صرف سڑکوں پر نکلنے تک محدود نہیں؛ سوشل میڈیا سے لے کر علمی مباحث، تعلیمی اداروں اور مساجد تک کشمیر کی آواز گونجتی ہے۔ یہ اجتماعی شعور اس بات کا اعلان ہے کہ ظلم کے خلاف خاموشی جرم ہے اور مظلوم کا ساتھ دینا ایمان۔ کشمیری عوام کی قربانیاں، ان کی ثابت قدمی اور آزادی کی جدوجہد پاکستانی قوم کے لیے حوصلے کا سرچشمہ ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اپنے اصولوں پر قائم رہیں تو وقت ان کا ساتھ دیتا ہے۔ کشمیر کی آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا، کیونکہ حق کو ہمیشہ طاقت پر برتری حاصل رہی ہے۔ پاکستان کا موقف واضح ہے مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس کے سوا کوئی حل نہ پائیدار ہے نہ قابلِ قبول۔یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ رشتے خون سے نہیں، احساس سے بنتے ہیں؛ اور پاکستان و کشمیر کا رشتہ احساس، ایمان اور مشترکہ جدوجہد کا رشتہ ہے۔ یہ رشتہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوا ہے اور ان شاء اللہ منزل تک پہنچ کر ہی دم لے گا۔

راجہ طاہر محمود