راولپنڈی سینئر وکیل انوار ڈار ایڈووکیٹ نے لاؤڈ سپیکر کے غیر قانونی استعمال کے خلاف سیشن کورٹ راولپنڈی میں پٹیشن دائر کر دی ہے درخواست گزار نے اپنے وکلاء تنویر عباس چٹھہ اور ثمر انوار ڈار ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر درخواست میں چیف سیکریٹری پنجاب، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، سٹی پولیس افسر (سی پی او) راولپنڈی اور ایس ایچ او پولیس تھانہ آر اے بازار کو فریق بنایا ہے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ راولپنڈی شہر اور کینٹ
کے گلی محلوں میں مختلف اشیاء فروخت کرنے والے ریڑھی بان، پھیری والے اور بھکاری لاؤڈ سپیکرز اور میگا فونز کے ذریعے اونچی آواز میں اعلانات کر کے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا رہے ہیں اس غیر قانونی عمل کے باعث مریضوں، بزرگ شہریوں اور طلباء کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا ہے جبکہ شہریوں کا سکون بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے درخواست گزار کے مطابق لاؤڈ سپیکر ایکٹ پر عملدرآمد کے لئے قبل ازیں وزیراعظم سٹیزن پورٹل، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی اور دیگر انتظامی افسران کو متعدد درخواستیں دی
گئیں تاہم تاحال کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میگا فونز کے ذریعے شہریوں کے ذہنی سکون کو متاثر کرنے والے ہاکرز، پھیری والوں اور دیگر عناصر کے خلاف قانونی کاروائی کا حکم دیا جائے اور متعلقہ حکام کو قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی جائیں درخواست میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ کافی عرصے سے راولپنڈی، چکلالہ کینٹ اور اندرونِ شہر کے متعدد علاقوں میں چھلی، ریت، سبزی، پھل، آئس کریم، کباڑ اور دیگر اشیاء فروخت کرنے والے ریڑھی بانوں کے ساتھ ساتھ بھکاری مافیا نے بھی اسپیکرز اور میگا فونز کا بے دریغ استعمال شروع کر رکھا ہے