پاکستان ایکسپریس کے ڈرائیور کی بروقت چوکس نگاہ سے پاکستان ریلویز بڑے حادثہ سے بچ گئی

چوہدری ظفر حسین گجر نے کُھلے ہوئے ریلوے جوڑ کو رات کے اندھیرے میں دیکھ کر گاڑی کو محتاط رفتار پر لایا اور کنٹرول آفس کو اطلاع دی

گزشتہ رات مورخہ 13 جنوری 2026 کو کراچی سے ہ راولپنڈی جانے والی پاکستان ایکسپریس راولپنڈی کے نواحی علاقے روات کے قریب مانکیالہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچ رہی تھی کہ کلومیٹر نمبر 1480/14 کے قریب آؤٹر سگنل کے پاس ریلوے لائن کا جوڑ کھلا ہوا اور ٹوٹا ہوا پایا گیا۔

پاکستان ایکسپریس کے قابل سینئر ڈرائیور چوہدری ظفر حسین گجر نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کی بدولت رات کے اندھیرے میں وہ متاثرہ ریل کا جوڑ دیکھ لیا، جس پر وہ فوراً گاڑی کو مزید محتاط رفتار پر لے آئے اور بروقت کنٹرول آفس سے ہنگامی رابطہ کر کے صورتحال سے آگاہ کیا اور مزید آنے والی گاڑیوں کو حادثے سے بچا لیا۔

چونکہ دھند کی وجہ سے یہ گاڑی پہلے ہی تاخیر کا شکار تھی اور اس سیکشن پر بھی دھند کے باعث یہ گاڑی پہلے ہی محتاط رفتار کے ساتھ چل رہی تھی، ایسے میں اس طرح کا ٹوٹا ہوا جوڑ دیکھ لینا ڈرائیور کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے بعد ازاں کنٹرول نے اس واقعے کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد راول ایکسپریس جو راولپنڈی آرہی تھی اور سبک رفتار جو لاہور جا رہی تھی کو کاشن پیپرز دے کے انتہائی محتاط رفتار کے ساتھ وہاں سے گزرنے کے احکامات صادر فرمائے جس سے دونوں مسافر گاڑیاں کسی آنے والے خطرناک حادثے سے بال بال بچ گئیں۔

ٹرین ڈرائیور چوہدری ظفر حسین گجر بلاشبہ کسی تعارف کے محتاج نہیں، ایسے ڈرائیورز پاکستان ریلوے کا ایک قیمتی سرمایہ ہیں ان کا سروس ریکارڈ بھی ان کی ریل کے ساتھ وفاداری اور ذمہ داری کا ثبوت دیتا ہے جو کسی لالچ اور انعام کےمحتاج نہیں بلکہ اپنی ڈیوٹی ریل کے وضع کردہ قوانین کےتحت نبھانےکو اپنا فخر اور ایمانداری سمجھتےہیں۔ پاکستان ریلوے میں ایسے ایماندار لوگ پاکستان ریلوے کا فخر ہیں، دھند کی وجہ سے حدِ نگاہ  انتہائی کم ہونے کے باوجود اس طرح کا ٹوٹا ہوا جوڑ دیکھ لینا اور بروقت حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے نہ صرف اپنی ٹرین کو حادثہ سے بچا لینا بلکہ فوراً کنٹرول آفس کو حالات کی نزاکت کے متعلق معلومات فراہم کر کے دوسری آنے والی ٹرینوں کو کسی ممکنہ حادثہ سے بچانے کی کوشش کرنا بلاشبہ ایک انتہائی قابل  ستائش عمل  ہے۔