راولپنڈی ڈویژن کی خصوصی ڈرگ کورٹ نے گزشتہ سال (2025) میں مجموعی طور 96 مقدمات کے فیصلے کرتے ہوئے جعلی اور ممنوعہ ادویات کی فروخت میں ملوث ملزمان کو مجموعی طور پر 17 کروڑ روپے سے زائد جرمانے اور 27 سال سے زائد قید کی سزائیں سنائیں جن میں ڈرگ مافیا کے 4 بڑے ڈرگ ڈیلرز کو مجموعی طور پر 26 سال قید اور 13 کروڑ روپے سے زائد جرمانے کئے گئے ان تمام مقدمات میں سرکار کی پیروی ڈرگ کورٹ راولپنڈی ڈویژن کی پراسیکیوشن برانچ کے انچارج کلیم اللہ تارڑ نے کی ڈرگ کورٹ کے چیئرمین فیصل بٹ کے روبرو سال 2024 سے زیر التوا 54 مقدمات کے ساتھ سال 2025 میں 87 نئے مقدمات درج ہوئے اس طرح انہوں نے کل 141 مقدمات میں سے 96 مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے نامزد ملزمان کو 17 کروڑ 4 لاکھ 41 ہزار روپے
جرمانے کے ساتھ 27 سال 4 ماہ قید کی سزا سنائی اس طرح چند بڑے مقدمات میں سال 2019 میں گھر سے بھاری مقدار میں جعلی اور ممنوعہ ادویات برآمدگی کے مقدمہ میں نامزد بڑے ڈرگ ڈیلر کو جرم ثابت ہونے پر 10 سال قید اور 4 کروڑ 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی جبکہ دیگر مقدمات میں نسیم مسیح نامی ملزم کو ٹرائل مکمل ہونے پر 7 سال قید اور 4 کروڑ 5 لاکھ روپے جرمانہ، مظہر سلطان کو 5 سال قید، اڑھائی کروڑ روپے جرمانہ اور افضال حسین کاظمی کو 4 سال قید کے ساتھ اڑھائی کروڑ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ڈرگ کورٹ کی پراسیکیوشن برانچ
کے انچارج کلیم اللہ تارڑ کے مطابق سال 2022 سے 2025 تک 4 سال میں 599 مقدمات کے فیصلے کئے گئے جن میں نامزد ملزمان کو مجموعی طور پر 76 سال 9 ماہ 14 دن قید اور 25 کروڑ 2 لاکھ 21 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا اس طرح سال 2025 میں ڈرگ مافیا کے 4 بڑے ڈیلرز کو قانون کی گرفت میں لا کر انجام تک پہنچایا گیا انہوں نے کہا کہ انسانی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت فوری اور موثر ٹرائل کے ذریعے خطرناک ڈرگ مافیا کو اس کے انجام تک پہنچایا جارہا ہے